تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 12

وَ اُمِرۡتُ لِاَنۡ اَکُوۡنَ اَوَّلَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۱۲﴾
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ ماننے والوں میں سے پہلا میں بنوں۔ En
اور یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ میں سب سے اول مسلمان بنوں
En
اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سب سے پہلا فرماں بردار بن جاؤں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاُمِرْتُ لِاَنْ اَكُوْنَ اَوَّلَ الْ٘مُسْلِمِیْنَ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنو۔ کیونکہ میں مخلوق کے لیے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لیے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأُمِرْتُ لأن أكونَ أولَ المسلمينَ}: لأنِّي الدَّاعي الهادي للخلقِ إلى ربِّهم، فيقتضي أنِّي أولُ من ائتَمَرَ بما أمرَ به وأولُ مَنْ أسلمَ، وهذا الأمرُ لا بدَّ من إيقاعِهِ من محمد - صلى الله عليه وسلم - وممَّن زعم أنه من أتْباعِهِ؛ فلا بدَّ من الإسلام في الأعمال الظاهرة والإخلاص لله في الأعمال الظاهرة والباطنة.