تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 13

قُلۡ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۳﴾
کہہ دے بے شک میں ایک بہت بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں، اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں۔ En
کہہ دو کہ اگر میں اپنے پروردگار کا حکم نہ مانوں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے
En
کہہ دیجئے! کہ مجھے تو اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہوئے بڑے دن کے عذاب کا خوف لگتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ اِنِّیْۤ اَخَافُ اِنْ عَصَیْتُ رَبِّیْ کہہ دیجیے کہ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو مجھے اندیشہ ہے یعنی اخلاص اور اسلام کے بارے میں میرے رب نے مجھے جو حکم دیا ہے ﴿عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ بڑے ان کے عذاب کا جس نے شرک کا ارتکاب کیا وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہے گا اور جس نے گناہ کیا اسے اس عذاب کے ذریعے سے سزا دی جائے گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل إني أخافُ إن عَصَيْتُ ربِّي}: فيما أمرني به من الإخلاص والإسلام {عذابَ يومٍ عظيمٍ}: يخلدُ فيه مَنْ أشرك ويعاقَبُ فيه من عصى.