تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الزمر (39) — آیت 11

قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ اَنۡ اَعۡبُدَ اللّٰہَ مُخۡلِصًا لَّہُ الدِّیۡنَ ﴿ۙ۱۱﴾
کہہ دے بے شک مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ دین کو اسی کے لیے خالص کر نے والا ہوں۔ En
کہہ دو کہ مجھ سے ارشاد ہوا ہے کہ خدا کی عبادت کو خالص کرکے اس کی بندگی کروں
En
آپ کہہ دیجئے! کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح عبادت کروں کہ اسی کے لئے عبادت کو خالص کر لوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ اے رسول! لوگوں سے کہہ دیجیے! ﴿اِنِّیْۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَ بلاشبہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں دین کو اللہ کے لیے خالص کرتے ہوئے، اس کی عبادت کروں جیسا کہ اس سورۂ مبارکہ کی ابتدا میں فرمایا: ﴿فَاعْبُدِ اللّٰهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّیْنَ (الزمر: 39/2) پس آپ اللہ کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {قل}: يا أيُّها الرسولُ، للناس: {إنِّي أمرتُ أن أعْبُدَ اللهَ مخلصاً له الدين}: في قولِهِ في أول السورة: {فاعْبُدِ الله مخلصاً له الدين}.