(آیت 12) ➊ { وَاُمِرْتُلِاَنْاَكُوْنَاَوَّلَالْمُسْلِمِيْنَ: ”لِاَنْاَكُوْنَ“} میں لام ”باء“ کے معنی میں ہے: {”أَيْأُمِرْتُبِأَنْأَكُوْنَأَوَّلَالْمُسْلِمِيْنَ“} یعنی اللہ کا پیغام پہنچانے والے کی حیثیت سے میرا کام صرف یہ نہیں کہ اس کا پیغام پہنچا دوں، بلکہ مجھے حکم ہے کہ اس کی فرماں برداری کرنے والوں میں سب سے پہلا فرماں بردار میں بنوں۔ میں ان جابر بادشاہوں کی طرح نہ بنوں جو لوگوں کو کئی کاموں کا حکم دیتے ہیں، مگر خود وہ کام نہیں کرتے، بلکہ میں تمھیں اللہ کے جو احکام پہنچاؤں، سب سے پہلے خود ان پر عمل کروں۔ ➋ { ”لِاَنْاَكُوْنَ“} میں ”لام“ علت بیان کرنے کے لیے بھی ہو سکتا ہے، اس صورت میں دونوں آیات کا ترجمہ اس طرح ہو گا، کہہ دے مجھے تو حکم دیا گیا ہے کہ میں اللہ کی عبادت کروں، اس حال میں کہ دین کو اسی کے لیے خالص کرنے والا ہوں اور مجھے یہ حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ میں تمام مسلمانوں میں سب سے پہلا بنوں (کیونکہ دین میں پیش قدمی اخلاص ہی سے حاصل ہوتی ہے)۔ مفسر ابو السعود نے کہا: {”وَأُمِرْتُبِذٰلِكَلِأَجَلِأَنْأَكُوْنَمُقَدِّمَهُمْفِيالدُّنْيَاوَالْآخِرَةِلِأَنَّإِحْرَازَقَصَبِالسَّبْقِفِيالدِّيْنِبِالْإِخْلَاصِفِيْهِ“}
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
12۔ 1 پہلا اس معنی میں کہ آبائی دین کی مخالفت کرکے توحید کی دعوت سب سے پہلے آپ ہی نے پیش کی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ اور یہ بھی کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَاُمِرْتُلِاَنْاَكُوْنَاَوَّلَالْ٘مُسْلِمِیْنَ ﴾”اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلمان بنو۔“ کیونکہ میں مخلوق کے لیے داعی اور ان کے رب کی طرف ان کی راہنمائی کرنے والا ہوں یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ جس کام کا حکم دیا جائے میں تمام لوگوں سے پہلے اس حکم کی تعمیل کروں اور سب سے پہلے میں اس کے سامنے سرتسلیم خم کر دوں۔ اس حکم کو بجا لانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان لوگوں پر لازم ہے جو آپ کی اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ظاہری اعمال میں اسلام پر عمل کرنا اور ظاہری اور باطنی اعمال میں اللہ کے لیے اخلاص کو مدنظر رکھنا واجب ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وأُمِرْتُ لأن أكونَ أولَ المسلمينَ}: لأنِّي الدَّاعي الهادي للخلقِ إلى ربِّهم، فيقتضي أنِّي أولُ من ائتَمَرَ بما أمرَ به وأولُ مَنْ أسلمَ، وهذا الأمرُ لا بدَّ من إيقاعِهِ من محمد - صلى الله عليه وسلم - وممَّن زعم أنه من أتْباعِهِ؛ فلا بدَّ من الإسلام في الأعمال الظاهرة والإخلاص لله في الأعمال الظاهرة والباطنة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔