تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 56

جَہَنَّمَ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۵۶﴾
جہنم، وہ اس میں داخل ہوں گے، سو وہ برا بچھونا ہے۔ En
(یعنی) دوزخ۔ جس میں وہ داخل ہوں گے اور وہ بری آرام گاہ ہے
En
دوزخ ہے جس میں وه جائیں گے (آه) کیا ہی برا بچھونا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ جہنم ہے جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿یَصْلَوْنَهَا جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَ٘بِئْسَ الْمِهَادُ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم فَصَّلَه فقال: {جَهَنَّم}: التي جمع فيها كلَّ عذاب واشتدَّ حرُّها وانتهى قرُّها {يَصْلَوْنها}؛ أي: يعذَّبون فيها عذاباً يحيطُ بهم من كل وجهٍ، لهم من فوقهم ظلل من النار ومن تحتهم ظلل. {فبئس المِهادُ}: المعدُّ لهم مسكناً ومستقرًّا.