اس آیت کی تفسیر آیت 55 میں تا آیت 57 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
56۔ یعنی دوزخ، جس میں وہ داخل ہوں گے جو بہت بری جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اہل نار کے احوال ٭٭
اوپر نیکوں کا حال بیان کیا تو یہاں بروں کا حال بیان فرما رہا ہے جو اللہ کی نہیں مانتے تھے، نبی کی نافرمانی کرتے تھے ان کے لوٹنے کی جگہ بہت بری ہے اور وہ جہنم ہے جس میں یہ لوگ داخل ہوں گے اور چاروں طرف سے انہیں آتش دوزخ گھیر لے گی۔ یہ نہایت ہی برا بچھونا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿جَهَنَّمَ ﴾”جہنم ہے“ جس میں ہر قسم کا عذاب جمع کر دیا گیا ہے، جس کی حرارت بہت شدید اور اس کی ٹھنڈک انتہا کو پہنچی ہوئی ہو گی۔ ﴿یَصْلَوْنَهَا ﴾ جہاں ان کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔ یہ عذاب انھیں ہر طرف سے گھیر لے گا ان کے نیچے بھی آگ ہو گی اور اوپر سے بھی آگ برسے گی۔ ﴿فَ٘بِئْسَالْمِهَادُ ﴾ بدترین مسکن اور ٹھکانا ہو گا جو ان کے لیے تیار کیا گیا ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم فَصَّلَه فقال: {جَهَنَّم}: التي جمع فيها كلَّ عذاب واشتدَّ حرُّها وانتهى قرُّها {يَصْلَوْنها}؛ أي: يعذَّبون فيها عذاباً يحيطُ بهم من كل وجهٍ، لهم من فوقهم ظلل من النار ومن تحتهم ظلل. {فبئس المِهادُ}: المعدُّ لهم مسكناً ومستقرًّا.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔