تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 55

ہٰذَا ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیۡنَ لَشَرَّ مَاٰبٍ ﴿ۙ۵۵﴾
یہ ہے (جزا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے یقینا بد ترین ٹھکانا ہے۔ En
یہ (نعمتیں تو فرمانبرداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے
En
یہ تو ہوئی جزا، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے بڑی بری جگہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هٰؔذَا یہ جزا جس کا ہم نے وصف بیان کیا ہے اہل تقویٰ کے لیے ہے ﴿وَاِنَّ لِلطّٰغِیْنَ یعنی کفرومعاصی میں حد سے بڑھے ہوئے لوگوں کے لیے ﴿لَشَرَّ مَاٰبٍ بدترین ٹھکانا اور لوٹنے کی جگہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هذا} الجزاء للمتَّقين ما وصفناه، {وإنَّ للطَّاغين}؛ أي: للمتجاوزين للحدِّ في الكفر والمعاصي {لَشَرَّ مآبٍ}؛ أي: لشرَّ مرجع ومُنْقَلَبٍ.