تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ ص (38) — آیت 57

ہٰذَا ۙ فَلۡیَذُوۡقُوۡہُ حَمِیۡمٌ وَّ غَسَّاقٌ ﴿ۙ۵۷﴾
یہ ہے (سزا) سو وہ اسے چکھیں، کھولتا ہوا پانی اور پیپ۔ En
یہ کھولتا ہوا گرم پانی اور پیپ (ہے) اب اس کے مزے چکھیں
En
یہ ہے، پس اسے چکھیں، گرم پانی اور پیﭗ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هٰؔذَا یہ بدترین ٹھکانا، یہ سخت عذاب، یہ فضیحت و رسوائی اور یہ سزا ﴿فَلْیَذُوْقُ٘وْهُ۠ حَمِیْمٌ پس اسے چکھو، کھولتا ہوا پانی ہو گا، جو سخت گرم ہو گا جسے جہنمی پئیں گے جو ان کی انتڑیوں کو کاٹ ڈالے گا۔ ﴿وَّغَسَّاقٌ یہ بدترین پینے کی چیز ہو گی جو پیپ اور خون پر مشتمل ہو گی جو بہت کڑوی اور انتہائی بدبودار ہوگی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هذا}: المهاد، هذا العذاب الشديد والخزي والفضيحة والنَّكالُ. {فَلْيَذوقوهُ حميمٌ}: ماءٌ حارٌّ قد اشتدَّ حرُّه، يشربونه فيقطِّع أمعاءهم، {وغَسَّاقٌ}: وهو أكرهُ ما يكون من الشرابِ من قيح وصديدٍ، مرِّ المذاق، كريه الرائحة.