تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنَّهٰؔذَالَرِزْقُنَا ﴾”یقینا یہ ہمارا رزق ہے“ جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے ﴿مَالَهٗمِنْنَّفَادٍ﴾ یہ رزق کبھی منقطع نہ ہو گا بلکہ وہ دائمی ہو گا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے جو رؤ وف و رحیم، محسن و جواد، واسع و غنی، قابل تعریف، لطف عظیم کا حامل، نہایت مہربان بادشاہ، بااختیار، جلیل القدر، جمیل الشان، احسان کرنے والا، بے پناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے جس کی نعمتوں کو شمار کیا جا سکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنَّ هذا لرِزْقُنا}: الذين أوردناه على أهل دار النعيم {ما له من نفادٍ}؛ أي: انقطاع، بل هو دائمٌ مستقرٌّ في جميع الأوقات، متزايدٌ في جميع الآنات، وليس هذا بعظيم على الربِّ الكريم، الرءوف الرحيم، البَرِّ الجواد، الواسع الغني، الحميد اللطيف، الرحمن، الملك الديان، الجليل الجميل المنان، ذي الفضل الباهر والكرم المتواتر، الذي لا تُحصى نعمُه ولا يُحاط ببعض بِرِّه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔