ترجمہ و تفسیر — سورۃ ص (38) — آیت 54

اِنَّ ہٰذَا لَرِزۡقُنَا مَا لَہٗ مِنۡ نَّفَادٍ ﴿ۚۖ۵۴﴾
بلاشبہ یقینا یہ ہمارا رزق ہے، جس کے لیے کسی صورت ختم ہونا نہیں ہے۔ En
یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا
En
بیشک روزیاں (خاص) ہمارا عطیہ ہیں جن کا کبھی خاتمہ ہی نہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 53 میں تا آیت 55 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 رزق، بمعنی عطیہ ہے اور ھٰذَا سے ہر قسم کی مذکور نعمتیں اور وہ اکرام و اعزاز مراد ہے جن سے اہل جنت بہرہ یاب ہوں گے۔ نفاد کے معنی خاتمے کے ہیں یہ نعمتیں بھی غیر فانی ہوں گی اور اعزازو اکرام بھی دائمی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ بلا شبہ یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہ ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّ هٰؔذَا لَرِزْقُنَا یقینا یہ ہمارا رزق ہے جو ہم نے اہل جنت کو عطا کیا ہے ﴿مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍ یہ رزق کبھی منقطع نہ ہو گا بلکہ وہ دائمی ہو گا اور ہر آن اس میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ یہ سب کچھ رب کریم کے لیے کوئی بڑا کام نہیں ہے جو رؤ وف و رحیم، محسن و جواد، واسع و غنی، قابل تعریف، لطف عظیم کا حامل، نہایت مہربان بادشاہ، بااختیار، جلیل القدر، جمیل الشان، احسان کرنے والا، بے پناہ فضل اور متواتر کرم کا مالک ہے۔ وہ ایسی ہستی ہے جس کی نعمتوں کو شمار کیا جا سکتا ہے نہ اس کے کسی احسان کا احاطہ کیا جا سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ هذا لرِزْقُنا}: الذين أوردناه على أهل دار النعيم {ما له من نفادٍ}؛ أي: انقطاع، بل هو دائمٌ مستقرٌّ في جميع الأوقات، متزايدٌ في جميع الآنات، وليس هذا بعظيم على الربِّ الكريم، الرءوف الرحيم، البَرِّ الجواد، الواسع الغني، الحميد اللطيف، الرحمن، الملك الديان، الجليل الجميل المنان، ذي الفضل الباهر والكرم المتواتر، الذي لا تُحصى نعمُه ولا يُحاط ببعض بِرِّه.