تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 38

اِنَّکُمۡ لَذَآئِقُوا الۡعَذَابِ الۡاَلِیۡمِ ﴿ۚ۳۸﴾
بلاشبہ تم یقینا دردناک عذاب چکھنے والے ہو۔ En
بےشک تم تکلیف دینے والے عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو
En
یقیناً تم دردناک عذاب (کا مزه) چکھنے والے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ گزشتہ آیات میں ان کا قول: ﴿ اِنَّا لَذَآىِٕقُوْنَ بے شک ہم چکھیں گے۔ گزر چکا ہے اور اس قول میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال موجود ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے فیصلہ کن قول سے آگاہ فرمایا جس میں صدق اور یقین کے سوا کوئی احتمال نہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سچی خبر ہے۔ فرمایا: ﴿اِنَّـكُمْ لَذَآىِٕقُوا الْعَذَابِ الْاَلِیْمِ بے شک تم دردناک عذاب کا مزہ چکھنے والے ہو۔ یعنی سخت دردناک عذاب۔
﴿وَمَا تُجْزَوْنَ اور تمھیں جزا نہیں دی گئی۔ یعنی درد ناک عذاب کا مزا چکھانے میں ﴿اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ مگر اسی کی جو تم کرتے تھے۔ ہم نے تم پر ظلم نہیں کیا بلکہ تمھارے ساتھ انصاف کیا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما كان قولُهُم السابقُ: {إنَّا لَذائقونَ} قولاً صادراً منهم يحتملُ أنْ يكونَ صدقاً أو غيره؛ أخبر تعالى بالقول الفصل الذي لا يَحْتَمِلُ غيرَ الصدق واليقين، وهو الخبر الصادر منه تعالى، فقال: {إنَّكم لَذائقو العذابِ الأليم}؛ أي: المؤلم الموجع، {وما تُجْزَوْنَ}: في إذاقة العذاب الأليم {إلاَّ ما كُنتُم تعملونَ}: فلم نَظْلِمْكم، وإنَّما عَدَلْنا فيكم.