تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿بَلْعَجِبْتَ ﴾ اے رسول! یا اے انسان! آپ کو ان لوگوں کی تکذیب پر تعجب ہے جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو جھٹلاتے ہیں حالانکہ آپ ان کو بڑی بڑی نشانیاں دکھا چکے ہیں اور ان کے سامنے واضح دلائل پیش کر چکے ہیں۔ حیات بعدالموت ایک حقیقت اور تعجب کا مقام ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔ ﴿وَ﴾”اور“ ان کے انکار سے زیادہ تعجب والی اور بلیغ بات یہ ہے کہ وہ ﴿یَسْخَرُوْنَ﴾”تمسخر اڑاتے ہیں“ اس شخص کا جو حیات بعدالموت کی خبر لایا ہے۔ انھوں نے صرف حق کے انکار ہی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انھوں نے حق کے ساتھ تمسخر کا اضافہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{بل عجبتَ}: أيُّها الرسولُ أو أيُّها الإنسانُ من تكذيب مَنْ كَذَّبَ بالبعث بعد أن أرَيْتَهم من الآيات العظيمةِ والأدلَّة المستقيمةِ، وهو حقيقةً محلُّ عجبٍ واستغرابٍ؛ لأنَّه مما لا يَقْبَلُ الإنكارَ. {و} أعجبُ من إنكارِهِم وأبلغُ منه أنَّهم {يسخَرون}: ممَّنْ جاء بالخبر عن البعثِ، فلم يَكْفِهِم مجردُ الإنكار، حتى زادوا السخريةَ بالقول الحقِّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔