ان کافروں سے پوچھو تو کہ آیا ان کا پیدا کرنا زیاده دشوار ہے یا (ان کا) جنہیں ہم نے (ان کے علاوه) پیدا کیا؟ ہم نے (انسانوں) کو لیس دار مٹی سے پیدا کیا ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے ان عظیم مخلوقات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: ﴿فَاسْتَفْتِهِمْ ﴾ اپنے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کا انکار کرنے والوں سے پوچھیے۔ ﴿اَهُمْاَشَدُّخَلْقًا ﴾”کیا ان کا پیدا کرنا مشکل ہے۔“ یعنی ان کی موت کے بعد دوبارہ انھیں زندہ کرنا مشکل اور مشقت والا ہے ﴿اَمْمَّنْخَلَقْنَا ﴾ یا ان مخلوقات کو وجود میں لانا مشکل ہے جن کو ہم نے تخلیق کیا۔انھیں اقرار کرنا پڑے گا کہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، لوگوں کی تخلیق سے زیادہ مشکل ہے۔ تب ان پر حیات بعدالموت کا اقرار لازم آئے گا بلکہ اگر وہ اپنے آپ پر غور کریں تو انھیں معلوم ہو جائے گا کہ چکنی مٹی سے ان کی تخلیق کی ابتدا، موت کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے زیادہ مشکل ہے۔ اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّاخَلَقْنٰهُمْمِّنْطِیْنٍلَّازِبٍ ﴾”ہم نے انھیں چپکتے ہوئے گارے سے پیدا کیا۔“ یعنی طاقتور اور سخت مٹی سے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَقَدْخَلَقْنَاالْاِنْسَانَمِنْصَلْصَالٍمِّنْحَمَاٍمَّسْنُوْنٍ﴾ (الحجر: 15؍26) ”ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گاڑے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولَمَّا بيَّن هذه المخلوقاتِ العظيمةَ؛ قال: {فاسْتَفْتِهم}؛ أي: اسأل منكري خَلْقِهِم بعد موتِهِم: {أهم أشدُّ خَلْقاً}؛ أي: إيجادُهم بعد موتهم أشدُّ خَلْقاً وأشقُّ. {أم مَنْ خَلَقْنا}: من هذه المخلوقات؛ فلا بدَّ أن يُقِرُّوا أنَّ خَلْقَ السماواتِ والأرض أكبرُ من خَلْق الناس، فيلزمهم إذاً الإقرار بالبعثِ، بل لو رَجَعوا إلى أنفسهم وفكَّروا فيها؛ لعلموا أنَّ ابتداء خَلْقِهِم من طينٍ لازبٍ أصعب عند الفكر من إنشائهم بعد موتهم، ولهذا قال: {إنَّا خَلَقنَاهُم من طِينٍ لازِب}؛ أي: قويٍّ شديدٍ؛ كقوله تعالى: {ولقد خَلَقْنا الإنسانَ من صَلْصال من حَمَأٍ مسنونٍ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔