تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الصافات (37) — آیت 13

وَ اِذَا ذُکِّرُوۡا لَا یَذۡکُرُوۡنَ ﴿۪۱۳﴾
اور جب انھیں نصیحت کی جائے وہ قبول نہیں کرتے۔ En
اور جب ان کو نصیحت دی جاتی ہے تو نصیحت قبول نہیں کرتے
En
اور جب انہیں نصیحت کی جاتی ہے یہ نہیں مانتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَ اور یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ ﴿اِذَا ذُكِّ٘رُوْا جب انھیں (اس چیز) کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے جسے وہ اپنی عقل و فطرت میں پہچانتے ہیں اور ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی ہے ﴿لَا یَذْكُرُوْنَ تو وہ توجہ نہیں کرتے۔ اگر یہ جہالت ہے تو یہ ان کی کندذہنی کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ ان کو ایک ایسی چیز کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جو ان کی فطرت میں راسخ ہے اور عقل اسے جانتی ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر یہ تجاہل اور عناد کی بنا پر ہے تو یہ عجیب تر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{و} من العجب أيضاً أنَّهم {إذا ذُكِّروا}: ما يعرفون في فِطَرِهِم وعُقولهم وفَطِنوا له ولَفَتَ نَظَرَهم إليه {لا يَذْكرونَ}: ذلك؛ فإنْ كان جهلاً؛ فهو من أدلِّ الدلائل على شِدَّةِ بلادَتِهِم العظيمة؛ حيث ذُكِّروا ما هو مستقرٌّ في الفطر معلومٌ بالعقل لا يقبلُ الإشكالَ، وإن كان تَجاهُلاً وعناداً؛ فهو أعجبُ وأغربُ.