تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَ﴾”اور“ یہ بھی انتہائی تعجب خیز بات ہے کہ ﴿اِذَاذُكِّ٘رُوْا ﴾”جب انھیں (اس چیز) کی یاد دہانی کرائی جاتی ہے“ جسے وہ اپنی عقل و فطرت میں پہچانتے ہیں اور ان کی توجہ اس طرف مبذول کرائی جاتی ہے ﴿لَایَذْكُرُوْنَ﴾”تو وہ توجہ نہیں کرتے۔“ اگر یہ جہالت ہے تو یہ ان کی کندذہنی کی سب سے بڑی دلیل ہے کیونکہ ان کو ایک ایسی چیز کی یاد دہانی کرائی گئی ہے جو ان کی فطرت میں راسخ ہے اور عقل اسے جانتی ہے اور اس میں کوئی اشکال نہیں اور اگر یہ تجاہل اور عناد کی بنا پر ہے تو یہ عجیب تر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{و} من العجب أيضاً أنَّهم {إذا ذُكِّروا}: ما يعرفون في فِطَرِهِم وعُقولهم وفَطِنوا له ولَفَتَ نَظَرَهم إليه {لا يَذْكرونَ}: ذلك؛ فإنْ كان جهلاً؛ فهو من أدلِّ الدلائل على شِدَّةِ بلادَتِهِم العظيمة؛ حيث ذُكِّروا ما هو مستقرٌّ في الفطر معلومٌ بالعقل لا يقبلُ الإشكالَ، وإن كان تَجاهُلاً وعناداً؛ فهو أعجبُ وأغربُ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔