تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ يس (36) — آیت 15

قَالُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ اِلَّا بَشَرٌ مِّثۡلُنَا ۙ وَ مَاۤ اَنۡزَلَ الرَّحۡمٰنُ مِنۡ شَیۡءٍ ۙ اِنۡ اَنۡتُمۡ اِلَّا تَکۡذِبُوۡنَ ﴿۱۵﴾
انھوں نے کہا تم ہمارے جیسے بشر ہی تو ہو اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی، تم تو محض جھوٹ ہی کہہ رہے ہو۔ En
وہ بولے کہ تم (اور کچھ) نہیں مگر ہماری طرح کے آدمی (ہو) اور خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم محض جھوٹ بولتے ہو
En
ان لوگوں نے کہا کہ تم تو ہماری طرح معمولی آدمی ہو اور رحمٰن نے کہا کوئی چیز نازل نہیں کی۔ تم نرا جھوٹ بولتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوْا مَاۤ اَنْتُمْ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثْلُنَا (انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنْ نَّحْنُ اِلَّا بَشَرٌ مِّؔثْلُكُمْ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ یَمُنُّ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ (ابرٰہیم:14؍11) ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔
﴿وَمَاۤ اَنْزَلَ الرَّحْمٰنُ مِنْ شَیْءٍ اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا: ﴿اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَكْذِبُوْنَ تم تو جھوٹ بولتے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأجابوهم بالجوابِ الذي ما زال مشهوراً عند من ردَّ دعوةَ الرُّسل، فقالوا: {ما أنتُم إلاَّ بشرٌ مثلُنا}؛ أي: فما الذي فضَّلَكم علينا وخصَّكم من دوننا؟!

قالت الرسل لأممهم: إن نحنُ إلاَّ بشرٌ مثلُكم، ولكن [اللَّهَ] يمنُّ على من يشاءُ من عبادِهِ، {وما أنزل الرحمنُ من شيءٍ}؛ أي: أنكروا عمومَ الرسالةِ، ثم أنكروا أيضاً المخاطبين لهم، فقالوا: {إنْ أنتُم إلاَّ تكذِبونَ}.