جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر)بھیجے تو انھوں نے ان دونوں کو جھٹلا دیا، پھر ہم نے تیسرے کے ساتھ تقویت دی تو انھوں نے کہا بے شک ہم تمھاری طرف بھیجے ہوئے ہیں۔
En
(یعنی) جب ہم نے ان کی طرف دو (پیغمبر) بھیجے تو انہوں نے ان کو جھٹلایا۔ پھر ہم نے تیسرے سے تقویت دی تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہاری طرف پیغمبر ہو کر آئے ہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِذْاَرْسَلْنَاۤاِلَیْهِمُاثْنَیْنِفَكَذَّبُوْهُمَا۠فَعَزَّزْنَابِثَالِثٍ ﴾”جب ہم نے ان کے پاس دو کو بھیجا تو ان لوگوں نے دونوں کو جھٹلایا، پھر ہم نے تیسرے سے تائید کی“ یعنی ہم نے تیسرے کے ذریعے سے ان دونوں کو قوت عطا کی، چنانچہ ان پر اللہ تعالیٰ کی عنایت خاص اور حجت کے طور پر پے در پے رسول بھیجنے سے ان کی تعداد تین ہو گئی ﴿فَقَالُوْۤا ﴾ تو رسولوں نے ان سے کہا: ﴿اِنَّـاۤ٘اِلَیْكُمْمُّرْسَلُوْنَ ﴾”بلاشبہ ہم تمھاری طرف رسول ہو کر آئے ہیں۔“