(آیت 15) {قَالُوْامَاۤاَنْتُمْاِلَّابَشَرٌمِّثْلُنَا …:} کفارِ مکہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی بات کہی۔ دیکھیے سورۂ انعام (۹۱) بلکہ ہر قوم نے اپنے رسول کو یہی کہا کہ تم ہمارے جیسے بشر ہو، آخر تم میں ہم سے بڑھ کر وہ کون سی خوبی ہے جو اللہ نے تمھیں ہی نبوت کے لیے منتخب کیا؟ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۱۰)، بنی اسرائیل (۹۴)، مومنون (۳۴) اور تغابن (۶) گویا نبوت کے متعلق ہمیشہ سے جاہلی تصور یہ ہے کہ جو بشر ہو وہ رسول نہیں ہو سکتا۔ دوسرے الفاظ میں یہی تصور بعض جاہلوں میں اس طرح پایا جاتا ہے کہ جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہو سکتا، حالانکہ قرآن تمام انبیاء کو بشر بھی ثابت کرتا ہے اور رسول بھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ وہ کہنے لگے: ”تم تو ہمارے ہی جیسے انسان ہو [16] اور اللہ نے تو کچھ بھی نہیں اتارا (بلکہ) تم تو محض جھوٹ [17] بولتے ہو“
[16] قریش بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی کچھ کہتے تھے کہ تم بھی ہمارے ہی جیسے بشر ہو آخر تم میں ہم سے بڑھ کر وہ کون سی خوبی ہے جو اللہ نے تمہیں ہی نبوت کے لئے منتخب کیا اور یہ ایسا اعتراض ہے جو ہر نبی کے منکر اپنے اپنے نبی کے متعلق کرتے آئے تھے۔ گویا نبوت کے متعلق جاہلی تصور یہ ہے کہ جو بشر ہو وہ رسول نہیں ہو سکتا اور اس کے عین برعکس دوسرا جاہلی تصور یہ ہے کہ جو رسول ہو وہ بشر نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ قرآن سب انبیاء کو بشر بھی ثابت کرتا ہے اور رسول بھی۔ [17] قریش مکہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ الزام دیتے تھے کہ جو کلام یہ پیش کرتا ہے خود ہی تصنیف کر کے اللہ کے نام سے منسوب کر دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور انھوں نے رسولوں کو ایسا جواب دیا جو انبیاء و مرسلین کی دعوت کو ٹھکرانے والوں کے ہاں مشہور ہے۔﴿قَالُوْامَاۤاَنْتُمْاِلَّابَشَرٌمِّؔثْلُنَا ﴾”(انھوں نے کہا:) تم تو محض ہماری طرح کے آدمی ہو۔“ یعنی کس بنا پر تمھیں ہم پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے۔ دیگر رسولوں نے بھی اپنی امتوں سے کہا تھا: ﴿اِنْنَّحْنُاِلَّابَشَرٌمِّؔثْلُكُمْوَلٰكِنَّاللّٰهَیَمُنُّعَلٰىمَنْیَّشَآءُمِنْعِبَادِهٖ ﴾ (ابرٰہیم:14؍11) ”ہم تمھاری ہی طرح بشر ہیں مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے احسان کرتا ہے۔“
﴿وَمَاۤاَنْزَلَالرَّحْمٰنُمِنْشَیْءٍ ﴾”اور رحمان نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔“ یعنی انھوں نے رسالت کی عمومیت کا انکار کیا، پھر انھوں نے اپنے رسولوں سے مخاطب ہو کر ان کا انکار کرتے ہوئے کہا: ﴿اِنْاَنْتُمْاِلَّاتَكْذِبُوْنَ ﴾”تم تو جھوٹ بولتے ہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأجابوهم بالجوابِ الذي ما زال مشهوراً عند من ردَّ دعوةَ الرُّسل، فقالوا: {ما أنتُم إلاَّ بشرٌ مثلُنا}؛ أي: فما الذي فضَّلَكم علينا وخصَّكم من دوننا؟!
قالت الرسل لأممهم: إن نحنُ إلاَّ بشرٌ مثلُكم، ولكن [اللَّهَ] يمنُّ على من يشاءُ من عبادِهِ، {وما أنزل الرحمنُ من شيءٍ}؛ أي: أنكروا عمومَ الرسالةِ، ثم أنكروا أيضاً المخاطبين لهم، فقالوا: {إنْ أنتُم إلاَّ تكذِبونَ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔