اور کچھ لوگوں اور جانوروں اور چوپائوں میں سے بھی ہیں جن کے رنگ اسی طرح مختلف ہیں، اللہ سے تو اس کے بندوں میں سے صرف جاننے والے ہی ڈرتے ہیں، بے شک اللہ سب پرغالب، بے حد بخشنے والا ہے ۔
En
انسانوں اور جانوروں اور چارپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔ بےشک خدا غالب (اور) بخشنے والا ہے
اور اسی طرح آدمیوں اور جانوروں اور چوپایوں میں بھی بعض ایسے ہیں کہ ان کی رنگتیں مختلف ہیں، اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں واقعی اللہ تعالیٰ زبردست بڑا بخشنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے انسانوں، چوپایوں اور مویشیوں کو پیدا کیا ان کو مختلف رنگ، اوصاف، آوازیں اور مختلف صورتیں عطا کیں جو آنکھوں کے سامنے عیاں ہیں اور دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ان تمام چیزوں کی اصل اور ان کا مادہ ایک ہے۔
ان کے درمیان تفاوت اللہ کی مشیّت پر عقلی دلیل ہے، جس نے ہر ایک کو مخصوص رنگ اور وصف سے مختص کیا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر دلیل ہے کہ اس نے ان کو وجود بخشا، یہ اس کی حکمت اور رحمت ہے کہ ان کو اس اختلاف اور تفاوت سے نوازا۔ اس تفاوت میں بے شمار فوائد اور منافع پنہاں ہیں اس تفاوت کے سبب سے راستوں کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور لوگ ایک دوسرے کو پہچانتے ہیں۔
نیز یہ اللہ تعالیٰ کے وسعت علم کی دلیل ہے، نیز اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو دوبارہ زندہ کرے گا، مگر غافل شخص ان تمام اشیاء کو غفلت کی نظر سے دیکھتا ہے ان چیزوں کو دیکھ کر اسے نصیحت حاصل نہیں ہوتی ان چیزوں سے صرف وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اپنے فکر راست کی بنا پر ان میں پنہاں اللہ تعالیٰ کی حکمت کو جانتے ہیں۔ بنا بریں فرمایا: ﴿اِنَّمَایَخْشَىاللّٰهَمِنْعِبَادِهِالْ٘عُلَمٰٓؤُا ﴾”حقیقت یہ ہے کہ اللہ سے تو اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم والے ہیں۔“ جو شخص سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے وہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ خشیت الٰہی اسے گناہوں سے باز رہنے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی تیاری کرنے کی موجب بنتی ہے۔
یہ آیت کریمہ علم کی فضیلت کی دلیل ہے کیونکہ علم انسان کو خشیت الٰہی کی طرف دعوت دیتا ہے۔ خشیت الٰہی کے حامل لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اکرام و تکریم کے اہل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿رَضِیَاللّٰهُعَنْهُمْوَرَضُوْاعَنْهُ١ؕذٰلِكَلِمَنْخَشِیَرَبَّهٗ﴾ (البینۃ:98؍8) ”اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے یہ اس کے لیے ہے جو اپنے رب سے ڈر گیا۔“﴿اِنَّاللّٰهَعَزِیْزٌ ﴾”بے شک اللہ تعالیٰ (کامل) غلبے کا مالک ہے“ یہ اس کا غلبہ ہی ہے کہ اس نے متضاد انواع واقسام کی مخلوقات کو پیدا کیا۔ ﴿غَفُوْرٌ ﴾”بخشنے والا ہے“ توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ومن ذلك الناسُ والدوابُّ والأنعام؛ فيها من اختلاف الألوان والأوصافِ والأصواتِ والهيئاتِ ما هو مرئيٌّ بالأبصار مشهودٌ للنُّظَّارِ، والكلُّ من أصل واحدٍ ومادةٍ واحدةٍ، فتفاوتُها دليلٌ عقليٌّ على مشيئةِ الله تعالى التي خَصَّصَتْ ما خَصَّصَتْ منها بلونِهِ ووصفِهِ، وقدرة الله تعالى حيث أوجدها كذلك، وحكمتِهِ ورحمتِهِ حيث كان ذلك الاختلاف وذلك التفاوتُ فيه من المصالح والمنافع ومعرفة الطرق ومعرفة الناس بعضهم بعضاً ما هو معلوم، وذلك أيضاً دليلٌ على سعة علم الله تعالى، وأنه يَبْعَثُ مَنْ في القبور. ولكن الغافل ينظر في هذه الأشياء وغيرها نَظَرَ غفلةٍ لا تحدثُ له تذكُّراً، وإنَّما ينتفع بها من يخشى الله تعالى ويعلم بفكرِهِ الصائب وجهَ الحكمة فيها، ولهذا قال: {إنَّما يخشى اللهَ من عبادِهِ العلماءُ}: فكلُّ من كان بالله أعلم؛ كان أكثرَ له خشيةً، وأوجبتْ له خشيةُ الله الانكفافَ عن المعاصي والاستعدادَ للقاء مَنْ يخشاه، وهذا دليلٌ على فضيلة العلم؛ فإنَّه داع إلى خشية الله، وأهلُ خشيتِهِ هم أهلُ كرامتِهِ؛ كما قال تعالى: {رضي الله عنهم ورَضُوا عنه ذلك لِمَنْ خَشِيَ ربَّه}. {إنَّ الله عزيزٌ}: كامل العزَّة، ومن عزَّته خَلْقُ هذه المخلوقات المتضادَّات. {غفورٌ}: لذنوب التائبين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔