تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 27

اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ اَنۡزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً ۚ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ ثَمَرٰتٍ مُّخۡتَلِفًا اَلۡوَانُہَا ؕ وَ مِنَ الۡجِبَالِ جُدَدٌۢ بِیۡضٌ وَّ حُمۡرٌ مُّخۡتَلِفٌ اَلۡوَانُہَا وَ غَرَابِیۡبُ سُوۡدٌ ﴿۲۷﴾
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے آسمان سے کچھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ کئی پھل نکالے، جن کے رنگ مختلف ہیں اور پہاڑوں میں سے کچھ سفید اور سرخ قطعے ہیں، جن کے رنگ مختلف ہیں اور کچھ سخت کالے سیاہ ہیں۔ En
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے آسمان سے مینہ برسایا۔ تو ہم نے اس سے طرح طرح کے رنگوں کے میوے پیدا کئے۔ اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور (بعض) کالے سیاہ ہیں
En
کیا آپ نے اس بات پر نظر نہیں کی کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے مختلف رنگتوں کے پھل نکالے اور پہاڑوں کے مختلف حصے ہیں سفید اور سرخ کہ ان کی بھی رنگتیں مختلف ہیں اور بہت گہرے سیاه En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کے پھل پیدا کیے اور مختلف انواع کی نباتات اگائیں، دیکھنے والے ان کا مشاہدہ کرتے ہیں حالانکہ ان کو سیراب کرنے والا پانی ایک اور ان کو اگانے والی زمین ایک ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے لیے میخیں بنایا، آپ دیکھیں کہ پہاڑ گویا ایک دوسرے سے ملے ہوئے بلکہ وہ ایک ہی پہاڑ نظر آئیں گے، ان پہاڑوں کے رنگ مختلف ہیں، ان کے اندر سفید، زرد، سرخ اور گہرے سیاہ رنگ کی دھاریاں ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فمن ذلك أنَّ الله تعالى أنزلَ من السماء ماءً، فأخرج به من الثمراتِ المختلفاتِ والنباتات المتنوعاتِ ما هو مشاهدٌ للناظرين، والماء واحدٌ والأرضُ واحدةٌ. ومن ذلك الجبالُ التي جعلها الله أوتاداً للأرض؛ تجدِها جبالاً مشتبكةً، بل جبلاً واحداً، وفيها ألوان متعددةٌ، فيها {جُدَدٌ بيضٌ}؛ أي: طرائق بيضٌ، وفيها طرائقُ صفرٌ وحمرٌ، وفيها {غرابيبُ سودٌ}؛ أي: شديدة السواد جدًّا.