تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ فاطر (35) — آیت 29

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتۡلُوۡنَ کِتٰبَ اللّٰہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یَّرۡجُوۡنَ تِجَارَۃً لَّنۡ تَبُوۡرَ ﴿ۙ۲۹﴾
بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور انھوں نے نماز قائم کی اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا اس میں سے انھوں نے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کیا، وہ ایسی تجارت کی امید رکھتے ہیں جوکبھی برباد نہ ہو گی ۔ En
جو لوگ خدا کی کتاب پڑھتے اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں وہ اس تجارت (کے فائدے) کے امیدوار ہیں جو کبھی تباہ نہیں ہوگی
En
جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے پوشیده اور علانیہ خرچ کرتے ہیں وه ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جو کبھی خساره میں نہ ہوگی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ بے شک جو لوگ اللہ کی کتاب پڑھتے ہیں۔ یعنی اس کے اوامر میں اس کی اطاعت کرتے ہیں، اس کے نواہی کو ترک کرتے ہیں، اس کی دی ہوئی خبروں کی تصدیق کر کے انھیں اپنا عقیدہ بناتے ہیں اور ان اقوال کو پسند نہیں کرتے جو اس کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس کے معانی میں غوروخوض اور ان کے فہم کے حصول کی خاطر اس کے الفاظ کی تلاوت کرتے ہیں، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے کتاب اللہ کی تلاوت کے عموم کو بیان کرنے کے بعد نماز کو مخصوص فرمایا، جو دین کا ستون، مسلمانوں کے لیے روشنی، ایمان کی میزان اور دعوی ٔ اسلام کی صداقت کی علامت ہے نیز اقارب، مساکین اور یتیموں پر زکاۃ، کفارات، نذر اور صدقات کے مال کو خرچ کرنے کو مخصوص فرمایا۔ ﴿سِرًّا وَّعَلَانِیَةً کھلے چھپے تمام اوقات میں۔
﴿یَّرْجُوْنَ اس کے ذریعے سے وہ امید کرتے ہیں ﴿تِجَارَةً لَّ٘نْ تَبُوْرَ ایسی تجارت کی، جو کبھی کساد کا شکار ہو گی نہ فساد کا، بلکہ وہ سب سے بڑی، عالی شان اور افضل ترین تجارت ہے، آگاہ رہو کہ وہ تجارت ان کے رب کی رضا، اس کے بے پایاں ثواب کا حصول، اس کی ناراضی اور عذاب سے نجات ہے۔ اس آیت کریمہ میں ان اہل ایمان کے اعمال میں اخلاص کی طرف اشارہ ہے، نیز اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ان اعمال میں ان کے مقاصد برے اور نیت فاسد نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ وہ جس چیز کی امید کرتے تھے وہ ان کو حاصل ہو گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنَّ الذين يتلونَ كتاب الله}؛ أي: يتَّبعونَه في أوامره فيمتَثِلونها وفي نواهيه فيترُكونها وفي أخبارِهِ فيصدِّقونها ويعتَقِدونها ولا يقدِّمون عليه ما خالَفَه من الأقوال، ويتلون أيضاً ألفاظَه بدراستِهِ، ومعانِيه بتتبُّعِها واستخراجِها، ثم خصَّ من التلاوة بعدما عمَّ الصلاةَ ـ التي هي عمادُ الدِّين ونورُ المسلمين وميزانُ الإيمان وعلامةُ صدق الإسلام ـ النفقةَ على الأقارب والمساكين واليتامى وغيرهم من الزكاة والكفارات والنذور والصدقات، {سرًّا وعلانيةً}: في جميع الأوقات؛ {يرجونَ}: بذلك {تجارةً لن تبورَ}؛ أي: لن تكسدَ وتفسدَ، بل تجارة هي أجلُّ التجاراتِ وأعلاها وأفضلُها ألا وهي رضا ربِّهم والفوزُ بجزيل ثوابِهِ والنجاةُ من سخطِهِ وعقابِهِ، وهذا فيه الإخلاصُ بأعمالهم، وأنَّهم لا يرجون بها من المقاصدِ السيئةِ والنيَّاتِ الفاسدةِ شيئاً.