کہہ دے اگر میں گمراہ ہوا تو اپنی جان ہی پر گمراہ ہوں گا اور اگر میں نے ہدایت پائی تو اسی کی وجہ سے جو میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے، یقینا وہ سب کچھ سننے والا، قریب ہے۔
En
کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے۔ اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بےشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے
کہہ دیجیئے کہ اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے (کا وبال) مجھ پر ہی ہے اور اگر میں راه ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس وحی کے جو میرا پروردگار مجھے کرتا ہے وه بڑا ہی سننے واﻻ اور بہت ہی قریب ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب حق واضح ہو گیا، جس کی طرف رسول مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دی تھی اور آپ کو جھٹلانے والے آپ پر گمراہی کا بہتان لگاتے تھے، تو آپ نے ان کو حق سے آگاہ کر کے حق کو ان کے سامنے واضح کر دیا اور ان پر ثابت کر دیا کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ نے ان کو یہ بھی بتا دیا کہ ان کا آپ کو گمراہ کہنا حق کو کوئی نقصان دے سکتا ہے نہ دعوت حق کسی کے روکے رکی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مَعَاذَاللہِ) گمراہ ہیں، حالانکہ آپ اس سے پاک اور منزہ ہیں، تاہم اگر بحث میں برسبیل تنزل تمھاری بات کو صحیح مان لیں تو آپ کی گمراہی آپ کے لیے ہے یعنی آپ کی گمراہی کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے، دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔
﴿وَاِنِاهْتَدَیْتُ ﴾”اور اگر میں راہ راست پر ہوں“ تو یہ میرے نفس اور میری قوت و اختیار کا کارنامہ نہیں۔ میری ہدایت کا سبب تو صرف یہ ہے کہ ﴿یُوْحِیْۤاِلَیَّرَبِّیْ ﴾”میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے“ اور وہی میری ہدایت کا منبع ہے اور میرے سوا دیگر لوگوں کی ہدایت کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ بے شک میرا رب ﴿سَمِیْعٌ ﴾”سنتا ہے“ تمام باتوں اور تمام آوازوں کو اور ﴿قَ٘رِیْبٌ ﴾”قریب ہے“ ہر اس شخص کے جو اسے پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما تبيَّن الحقُّ بما دعا إليه الرسولُ، وكان المكذِّبونَ له يرمونَه بالضَّلال؛ أخبرهم بالحقِّ، ووضَّحه لهم وبيَّن لهم عَجْزَهُم عن مقاومتِهِ، وأخبرَهَم أنَّ رميَهم له بالضلال ليس بضائرٍ الحقَّ شيئاً ولا دافع ما جاء به، وأنَّه إنْ ضلَّ ـ وحاشاه من ذلك، لكن على سبيل التنزُّلِ في المجادلة ـ؛ فإنَّما يَضِلُّ على نفسِهِ؛ أي: ضلالُه قاصرٌ على نفسه، غيرُ متعدٍّ إلى غيرِهِ، {وإنِ اهتديتُ}: فليس ذلك من نفسي وحولي وقوَّتي، وإنَّما هدايتي بما {يوحي إليَّ ربي}: فهو مادة هدايتي؛ كما هو مادةُ هداية غيري؛ إنَّ ربِّي سميعٌ للأقوال والأصواتِ كلِّها، قريبٌ ممَّن دعاه وسأله وعَبَدَهُ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔