ترجمہ و تفسیر — سورۃ سبأ (34) — آیت 50

قُلۡ اِنۡ ضَلَلۡتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰی نَفۡسِیۡ ۚ وَ اِنِ اہۡتَدَیۡتُ فَبِمَا یُوۡحِیۡۤ اِلَیَّ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ قَرِیۡبٌ ﴿۵۰﴾
کہہ دے اگر میں گمراہ ہوا تو اپنی جان ہی پر گمراہ ہوں گا اور اگر میں نے ہدایت پائی تو اسی کی وجہ سے جو میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے، یقینا وہ سب کچھ سننے والا، قریب ہے۔ En
کہہ دو کہ اگر میں گمراہ ہوں تو میری گمراہی کا ضرر مجھی کو ہے۔ اور اگر ہدایت پر ہوں تو یہ اس کا طفیل ہے جو میرا پروردگار میری طرف وحی بھیجتا ہے۔ بےشک وہ سننے والا (اور) نزدیک ہے
En
کہہ دیجیئے کہ اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے (کا وبال) مجھ پر ہی ہے اور اگر میں راه ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس وحی کے جو میرا پروردگار مجھے کرتا ہے وه بڑا ہی سننے واﻻ اور بہت ہی قریب ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) ➊ { قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِيْ:} یہ پانچویں تلقین ہے کہ آپ انھیں سمجھانے کے لیے کہیں کہ اگر تمھارے بتوں کو اور تمھارے آباء کے دین کو چھوڑنے کی وجہ سے میں گمراہ ہو گیا ہوں، جیسا کہ میرے بارے میں تم کہتے پھرتے ہو تو اس گمراہی کا وبال مجھی پر پڑے گا، تم پر اس کی ذمہ داری نہیں اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں، جیسا کہ حقیقت ہے، تو یہ میرا کمال یا خوبی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری راہ نمائی ہے اور میں تمھیں صاف بتا چکا ہوں کہ میں اپنے نفس کی یا کسی اور کی پیروی کرتا ہی نہیں، بلکہ صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ» ‏‏‏‏ [الأعراف: ۲۰۳] کہہ دے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی جانب سے میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اس آیت میں یہ ادب بھی سکھایا گیا کہ خامی اور غلطی کی نسبت اپنی طرف کرنی ہے اور ہدایت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف، کیونکہ ساری خیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ہدایت اور بھلائی صرف اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی اور اس کے بیان کردہ حق میں ہے، پھر جو گمراہ ہوتا ہے وہ اپنے نفس کی وجہ سے گمراہ ہوتا ہے اور جسے ہدایت ملتی ہے اسے اللہ کی طرف سے ملتی ہے، جیساکہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: [أَقُوْلُ فِيْهَا بِرَأْيِيْ، فَإِنْ يَّكُ خَطَأً فَمِنِّيْ وَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَ إِنْ يَّكُ صَوَابًا، فَمِنَ اللّٰهِ] [مسند أحمد: 279/4، ح: ۱۸۴۸۹] میں اس کے بارے میں اپنی رائے سے کہتا ہوں، اگر وہ خطا ہوئی تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہو گی اور اگر درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
➋ {اِنَّهٗ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ:} ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم کسی وادی کی بلندی پر پہنچتے تو ہم لاالٰہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہتے اور ہماری آوازیں بلند ہو جاتیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ارْبَعُوْا عَلٰی أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ أَصَمَّ وَ لَا غَائِبًا، إِنَّهُ مَعَكُمْ، إِنَّهُ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ وَ تَعَالٰی جَدُّهُ] [بخاري، الجہاد والسیر، باب ما یکرہ من رفع الصوت في التکبیر: ۲۹۹۲] لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو، کیونکہ تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو، وہ تو تمھارے ساتھ ہے، بے شک وہ سب کچھ سننے والا ہے، قریب ہے۔ اس کا نام بہت برکت والا اور اس کی شان بہت بلند ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

50۔ 1 یعنی بھلائی سب اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جو وحی اور حق مبین نازل فرمایا، اس میں رشدو ہدایت ہے، صحیح راستہ لوگوں کو اس سے ملتا ہے۔ پس جو گمراہ ہوتا ہے، تو اس میں انسان کی اپنی ہی کوتاہی اور ہوائے نفس کا دخل ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا 50۔ 2 جس طرح حدیث میں فرمایا ' تم بہری اور غائب ذات کو نہیں پکار رہے ہو ' بلکہ اس کو پکار رہے ہو جو سننے والا، قریب اور قبول کرنے والا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ آپ ان سے کہئے کہ ”اگر میں راہ بھولا ہوا ہوں تو اس بھول کا وبال مجھ پر [75] ہو گا اور اگر میں سیدھی راہ پر گامزن ہوں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ میرا پروردگار میری طرف وحی کرتا ہے وہ یقیناً سب کچھ سننے والا ہے اور قریب ہے۔
[75] یعنی اگر میں نے یہ محض ایک ڈھونگ ہی رچایا ہوا ہے تو آخر یہ کتنے دل چل سکتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اس صورت میں تمہیں میری فکر چھوڑ دینا چاہئے میں اس باطل کے انجام سے جلد از جلد خود ہی دوچار ہو جاؤں گا اور اس کا وبال تم پر کچھ نہ ہو گا۔ لیکن اگر میں راہ راست پر ہوں تو اس راست روی کا ذریعہ سوائے وحی الٰہی کے اور کیا ہو سکتا ہے؟ تمہارے پاس تو تقلید آباء ذریعہ معلومات ہے۔ میرے پاس تو وہ بھی نہیں اس صورت میں تم خود ہی سوچ لو کہ تمہارا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ میرا پروردگار جو اس پیغام کو بھیجنے والا ہے ہماری سب باتیں سن رہا ہے اور وہ جلد ہی حق کی مدد فرمائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب حق واضح ہو گیا، جس کی طرف رسول مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت دی تھی اور آپ کو جھٹلانے والے آپ پر گمراہی کا بہتان لگاتے تھے، تو آپ نے ان کو حق سے آگاہ کر کے حق کو ان کے سامنے واضح کر دیا اور ان پر ثابت کر دیا کہ وہ حق کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ نے ان کو یہ بھی بتا دیا کہ ان کا آپ کو گمراہ کہنا حق کو کوئی نقصان دے سکتا ہے نہ دعوت حق کسی کے روکے رکی ہے۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مَعَاذَ اللہِ) گمراہ ہیں، حالانکہ آپ اس سے پاک اور منزہ ہیں، تاہم اگر بحث میں برسبیل تنزل تمھاری بات کو صحیح مان لیں تو آپ کی گمراہی آپ کے لیے ہے یعنی آپ کی گمراہی کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے، دوسروں پر اس کا کوئی اثر نہیں۔
﴿وَاِنِ اهْتَدَیْتُ اور اگر میں راہ راست پر ہوں تو یہ میرے نفس اور میری قوت و اختیار کا کارنامہ نہیں۔ میری ہدایت کا سبب تو صرف یہ ہے کہ ﴿یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے اور وہی میری ہدایت کا منبع ہے اور میرے سوا دیگر لوگوں کی ہدایت کا سرچشمہ بھی وہی ہے۔ بے شک میرا رب ﴿سَمِیْعٌ سنتا ہے تمام باتوں اور تمام آوازوں کو اور ﴿قَ٘رِیْبٌ قریب ہے ہر اس شخص کے جو اسے پکارتا ہے، اس سے مانگتا ہے اور اس کی عبادت کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما تبيَّن الحقُّ بما دعا إليه الرسولُ، وكان المكذِّبونَ له يرمونَه بالضَّلال؛ أخبرهم بالحقِّ، ووضَّحه لهم وبيَّن لهم عَجْزَهُم عن مقاومتِهِ، وأخبرَهَم أنَّ رميَهم له بالضلال ليس بضائرٍ الحقَّ شيئاً ولا دافع ما جاء به، وأنَّه إنْ ضلَّ ـ وحاشاه من ذلك، لكن على سبيل التنزُّلِ في المجادلة ـ؛ فإنَّما يَضِلُّ على نفسِهِ؛ أي: ضلالُه قاصرٌ على نفسه، غيرُ متعدٍّ إلى غيرِهِ، {وإنِ اهتديتُ}: فليس ذلك من نفسي وحولي وقوَّتي، وإنَّما هدايتي بما {يوحي إليَّ ربي}: فهو مادة هدايتي؛ كما هو مادةُ هداية غيري؛ إنَّ ربِّي سميعٌ للأقوال والأصواتِ كلِّها، قريبٌ ممَّن دعاه وسأله وعَبَدَهُ.