تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 51

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ فَزِعُوۡا فَلَا فَوۡتَ وَ اُخِذُوۡا مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۵۱﴾
اور کاش! تو دیکھے جب وہ گھبرا جائیں گے، پھر بچ نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور وہ قریب جگہ سے پکڑلیے جائیں گے۔ En
اور کاش تم دیکھو جب یہ گھبرا جائیں گے تو (عذاب سے) بچ نہیں سکیں گے اور نزدیک ہی سے پکڑ لئے جائیں گے
En
اور اگر آپ (وه وقت) ملاحظہ کریں جب کہ یہ کفار گھبرائے پھریں گے پھر نکل بھاگنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور قریب کی جگہ سے گرفتار کر لئے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک فرماتا ہے: ﴿وَلَوْ تَرٰۤى اور اگر آپ دیکھیں اے رسول! اور وہ جو آپ کے قائم مقام ہے، ان جھٹلانے والوں کا حال ﴿اِذْ فَزِعُوْا جب وہ گبھرائے ہوئے ہوں گے عذاب اور ان چیزوں کو دیکھ کر جن کے بارے میں انبیاء و رسل نے خبر دی تھی اور انھوں نے ان چیزوں کو جھٹلایا تھا تو آپ ایک انتہائی ہولناک منظر، نہایت بری حالت اور بہت بڑی سختی ملاحظہ فرمائیں گے اور یہ اس وقت ہو گا جب ان کے لیے عذاب کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ تو ان کے لیے بھاگنے کی کوئی جگہ ہو گی نہ وہ بچ ہی سکیں گے ﴿وَاُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَ٘رِیْبٍ اور وہ قریب ہی سے پکڑ لیے جائیں گے۔ یعنی وہ عذاب کی جگہ سے زیادہ دور نہ ہوں گے بلکہ ان کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يقول تعالى: {ولو ترى}: أيُّها الرسولُ ومَنْ قام مقامَكَ حالَ هؤلاء المكذِّبين {إذْ فَزِعوا}: حين رأوا العذابَ وما أخبرتْهم به الرسلُ وما كذَّبوا به؛ لرأيتَ أمراً هائلاً ومنظراً مفظِعاً وحالةً منكرةً وشدَّةً شديدةً، وذلك حين يحقُّ عليهم العذابُ، وليس لهم عنه مهربٌ ولا فوتٌ، {وأخِذوا من مكانٍ قريبٍ}؛ أي: ليس بعيداً عن محلِّ العذاب، بل يُؤخَذون ثم يُقْذَفون في النار.