تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 49

قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ مَا یُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَ مَا یُعِیۡدُ ﴿۴۹﴾
کہہ دے حق آگیا اور باطل نہ پہلی دفعہ کچھ کرتا ہے اور نہ دوبارہ کرتا ہے۔ En
کہہ دو کہ حق آچکا اور (معبود) باطل نہ تو پہلی بار پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوبارہ پیدا کرے گا
En
کہہ دیجیئے کہ حق آچکا باطل نہ تو پہلے کچھ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس لیے فرمایا: ﴿قُ٘لْ جَآءَ الْحَقُّ کہہ دیجیے: حق آگیا ہے یعنی وہ ظاہر، واضح اور سورج کی مانند روشن ہو گیا اور اس کی دلیل غالب آ گئی ہے۔ ﴿وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ اور باطل نہ تو پہلی بار پیدا کر سکتا ہے نہ دوبارہ پیدا کرے گا۔ یعنی اس کے ہتھکنڈے مضمحل ہو کر باطل اور اس کے دلائل سرنگوں ہو گئے۔ باطل (یعنی کوئی خود ساختہ معبود) کسی کو پیدا کر سکتا ہے نہ مرنے کے بعد زندگی کا اعادہ کر سکتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا قال: {قل جاء الحقُّ}؛ أي: ظهر وبان وصار بمنزلة الشمس وظَهَرَ سلطانُه، {وما يُبدِئُ الباطل وما يعيدُ}؛ أي: اضمحلَّ وبطل أمرُه وذهب سلطانُه؛ فلا يُبدئ ولا يُعيدُ.