تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ سبأ (34) — آیت 48

قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ۚ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۴۸﴾
کہہ بے شک میرا رب (دل میں) حق ڈالتا ہے، سب غیبوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔ En
کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اُتارتا ہے (اور وہ) غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے
En
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب حق (سچی وحی) نازل فرماتا ہے وه ہر غیب کا جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دلائل و براہین کا ذکر کرنے کے بعد، جو حق کی صحت اور باطل کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں، آگاہ فرمایا کہ یہ اس کی سنت اور عادت ہے۔ ﴿یَقْذِفُ بِالْحَقِّ اللہ تعالیٰ حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں باطل پر جو اس کا سرتوڑ دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حق کو واضح اور اہل تکذیب کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے، جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے تو آپ نے دیکھا کہ اہل تکذیب کے اقوال کیسے مضمحل ہو گئے، ان کا جھوٹ اور عناد کیسے عیاں ہو گیا، حق روشن ہو کر ظاہر ہو گیا اور باطل کا قلع قمع ہو گیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کو ﴿عَلَّامُ الْغُیُوْبِ سب سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والے نے بیان کیا ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور شبہات کو جانتا ہے، جو ان دلائل کو بھی جانتا ہے جو ان شبہات کے مقابلے میں جنم لیتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں۔پس وہ اپنے بندوں کو ان دلائل کا علم عطا کر کے ان کو ان کے سامنے خوب واضح کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولمَّا بيَّنَ البراهينَ الدالةَ على صحة الحقِّ وبطلان الباطل؛ أخبر تعالى أنَّ هذه سنَّتُه وعادته أن يَقْذِف بالحقِّ على الباطل فيدمَغَهُ فإذا هو زاهقٌ؛ لأنَّه بيَّن من الحقِّ في هذا الموضع وردَّ به أقوالَ المكذِّبين ما كان عبرةً للمعتبرين وآيةً للمتأملين؛ فإنَّك كما ترى كيف اضمحلَّتْ أقوالُ المكذِّبين، وتبيَّن كذِبُهم وعنادُهم، وظهر الحقُّ وسطع، وبطل الباطلُ وانقمعْ، وذلك بسبب بيان {عَلاَّم الغُيوبِ}، الذي يعلم ما تنطوي عليه القلوبُ من الوساوس والشُّبه، ويعلم ما يقابِلُ ذلك ويدفعُه من الحُجج، فيعلِّم بها عبادَه، ويبيِّنُها لهم.