تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
البتہ ایک اور مانع ہے جو نفوس کو داعی ٔ حق کی آواز پر لبیک کہنے سے روکتا ہے اور وہ مانع یہ ہے کہ داعی، اپنی آواز پر لبیک کہنے والوں سے، اپنی دعوت کی اجرت کے طور پر مال اینٹھ لیتا ہو، اس لیے اللہ تبارک وتعالیٰ نے اس قسم کے ہتھکنڈوں سے اپنے رسول کی براء ت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿قُ٘لْمَاسَاَلْتُكُمْمِّنْاَجْرٍ ﴾”کہہ دیجیے میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا۔“ یعنی تمھارے حق کی اتباع کرنے پر ﴿فَهُوَلَكُمْ ﴾ یعنی میں تمھیں گواہ کر کے کہتا ہوں کہ بفرض محال، اگر دعوت حق کی کوئی اجرت ہے، تو وہ اجرت تمھارے لیے ہے۔ ﴿اِنْاَجْرِیَاِلَّاعَلَىاللّٰهِ١ۚوَهُوَعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍشَهِیْدٌ ﴾”میرا اجر اللہ ہی کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے۔“ یعنی اس کا علم اس چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے جس کی طرف میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔ اگر میں جھوٹا ہوتا تو وہ عذاب کے ذریعے سے میری گرفت کرتا، نیز وہ تمھارے اعمال کو بھی دیکھتا ہے، وہ ان کو محفوظ رکھے گا اور تمھیں ان اعمال کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وثَمَّ مانعٌ للنفوس آخرُ عن اتِّباع الداعي إلى الحقِّ، وهو أنه يأخذُ أموال مَن يستجيبُ له ويأخذُ أجرةً على دعوتِهِ، فبيَّن الله تعالى نزاهةَ رسوله عن هذا الأمر، فقال: {قل ما سألتُكُم من أجرٍ}؛ أي: على اتِّباعكم للحقِّ {فهو لكم}؛ أي: فأشهدكم أنَّ ذلك الأجر على التقدير أنَّه لكم. {إنْ أجرِيَ إلاَّ على الله وهو على كلِّ شيءٍ شهيدٌ}؛ أي: محيطٌ علمهُ بما أدعو إليه؛ فلو كنتُ كاذباً؛ لأخذني بعقوبته، وشهيدٌ أيضاً على أعمالِكم، سيحفظُها عليكم ثم يجازيكم بها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔