قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَقۡذِفُ بِالۡحَقِّ ۚ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿۴۸﴾
کہہ بے شک میرا رب (دل میں) حق ڈالتا ہے، سب غیبوں کو بہت خوب جاننے والا ہے۔
En
کہہ دو کہ میرا پروردگار اوپر سے حق اُتارتا ہے (اور وہ) غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے
En
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب حق (سچی وحی) نازل فرماتا ہے وه ہر غیب کا جاننے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 48) ➊ { قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَقْذِفُ بِالْحَقِّ: ”قَذَفَ يَقْذِفُ“} کا معنی پھینکنا ہے، یہ ڈالنے کے معنی میں بھی آتا ہے: {”أَيْ يَقْذِفُ بِالْحَقِّ فِيْ قُلُوْبِ أَصْفِيَاءِهِ “} یعنی وہ اپنے خاص بندوں کے دلوں میں حق ڈال دیتا ہے۔ جب ثابت ہو گیا کہ یہ نبی نہ مجنون ہے، نہ دنیا کا طالب، نہ تم اس کے کسی قول یا فعل کو جھوٹ، جادو یا دیوانگی ثابت کر سکے تو ثابت ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، اس لیے فرمایا، اے نبی! جو لوگ توحید، انبیاء کی رسالت اور آخرت کے منکر ہیں ان سے کہہ دے کہ بے شک میرا رب وحی کے ذریعے سے اپنے چنے ہوئے بندوں کے دل میں حق بات ڈالتا ہے، اسی نے میرے دل میں بذریعہ وحی اس حق کا القا فرمایا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» [المؤمن: ۱۵] ”وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے وحی اتارتا ہے، تاکہ آپس کی ملاقات کے دن سے ڈرائے۔“ {” يَقْذِفُ بِالْحَقِّ “} کا دوسرا معنی {”يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ“} ہے، یعنی کہہ دے بے شک میرا رب حق کو باطل پر پھینک مارتا ہے تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس وہ اچانک مٹنے والا ہوتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ» [الأنبیاء: ۱۸] ”بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں تو وہ اس کا دماغ کچل دیتا ہے، پس اچانک وہ مٹنے والا ہوتا ہے۔“ یعنی تمھارے اس حق کو جھوٹ یا جادو یا دیوانگی کہنے سے اس کا کچھ نہیں بگڑے گا، میرا رب اس حق کو باطل پر اس زور سے پھینک مارے گا کہ وہ یکایک ہی مٹ جائے گا۔ اس آیت میں تیسری بات کی تلقین ہے کہ آپ مشرکین کو صراحت سے کہہ دیجیے کہ تم لوگ نہ حق سے جھگڑے میں غالب آ سکتے ہو نہ لڑائی میں، کیونکہ میرا رب میرے دل میں حق کا القا کرتا ہے، کیونکہ وہ تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اب جو شخص غیب جانتا ہی نہیں، نہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیب کی کوئی بات بتائی جاتی ہے تو وہ حق کے ساتھ کیا جھگڑا کرے گا؟ پھر میرا رب حق کو باطل پر مار کر اس کا دماغ کچل دیتا، تو اہل باطل اہل حق کے ساتھ کیا لڑائی کریں گے؟
➋ { عَلَّامُ الْغُيُوْبِ:} وہ تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ غیب کی ان باتوں میں سے جو چاہے اپنے جس پیغمبر کے دل میں چاہے ڈال دیتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے کہ غیب کی کس بات کی اطلاع کس پیغمبر کو دینی ہے۔ دیکھیے سورۂ جنّ (۲۶ تا ۲۸)۔
➋ { عَلَّامُ الْغُيُوْبِ:} وہ تمام غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ غیب کی ان باتوں میں سے جو چاہے اپنے جس پیغمبر کے دل میں چاہے ڈال دیتا ہے اور وہی خوب جانتا ہے کہ غیب کی کس بات کی اطلاع کس پیغمبر کو دینی ہے۔ دیکھیے سورۂ جنّ (۲۶ تا ۲۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 قذف کے معنی تیراندازی اور خشت باری کے بھی ہیں اور کلام کرنے کے بھی، یہاں اس کے دوسرے معنی ہیں یعنی وہ حق کے ساتھ گفتگو فرماتا، اور اپنے رسولوں پر وحی نازل فرماتا اور ان کے ذریعے سے لوگوں کے لیے حق واضح فرماتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ آپ انہیں کہہ دیجئے کہ: میرا پروردگار حق کے ساتھ (باطل پر) ضرب لگاتا [73] ہے اور وہ سب چھپی باتوں کو جاننے والا ہے۔
[73] یعنی آسمان سے جو وحی نازل ہو رہی ہے وہ حق ہے اور جو تمہارا طرز عمل ہے وہ باطل ہے۔ یہ حق باطل کا سر توڑ دے گا اور اس کا کچومر نکال دے گا۔ باطل کو بالآخر راہ فرار اختیار کرنا ہی پڑے گی۔ اور حق اس پر غالب آکے رہے گا۔ اللہ علام الغیوب ہے۔ اس نے عین موقع پر مجھے اپنی وحی کے ساتھ بھیجا ہے۔ اور وہ خوب جانتا ہے کہ باطل کا سر توڑنے کے لئے یہی مناسب موقع ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے۔ میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔
پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت «رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» ۱؎ [40-غافر:15] الخ، ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے جبرائیل علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے ‘ وہ حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آ چکی ہے۔ باطل پراگندہ بودار ہو کر برباد ہو گیا۔
جیسے فرمان ہے «بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:18] ’ ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ ‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ۱؎ [17-الإسراء:81] ’ حق آ گیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4720] (بخاری، مسلم)
باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہو گیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کر سکے نہ مردے کو زندہ کر سکے نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت «رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» ۱؎ [40-غافر:15] الخ، ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے جبرائیل علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے ‘ وہ حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آ چکی ہے۔ باطل پراگندہ بودار ہو کر برباد ہو گیا۔
جیسے فرمان ہے «بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:18] ’ ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ ‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ۱؎ [17-الإسراء:81] ’ حق آ گیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4720] (بخاری، مسلم)
باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہو گیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کر سکے نہ مردے کو زندہ کر سکے نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں وہی سراسر حق ہے اور ہدایت و بیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ سیدنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب مجیب ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان دلائل و براہین کا ذکر کرنے کے بعد، جو حق کی صحت اور باطل کے بطلان پر دلالت کرتی ہیں، آگاہ فرمایا کہ یہ اس کی سنت اور عادت ہے۔ ﴿یَقْذِفُ بِالْحَقِّ ﴾ ”اللہ تعالیٰ حق کے ذریعے سے چوٹ لگاتے ہیں“ باطل پر جو اس کا سرتوڑ دیتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ نیست و نابود ہو جاتا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حق کو واضح اور اہل تکذیب کے اعتراضات کو رد کر دیا ہے، جو عبرت حاصل کرنے والوں کے لیے عبرت اور غوروفکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے تو آپ نے دیکھا کہ اہل تکذیب کے اقوال کیسے مضمحل ہو گئے، ان کا جھوٹ اور عناد کیسے عیاں ہو گیا، حق روشن ہو کر ظاہر ہو گیا اور باطل کا قلع قمع ہو گیا اور اس کا سبب یہ ہے کہ اس کو ﴿عَلَّامُ الْغُیُوْبِ ﴾ ”سب سے زیادہ چھپی ہوئی باتوں کو جاننے والے“ نے بیان کیا ہے جو دلوں میں پیدا ہونے والے وسوسوں اور شبہات کو جانتا ہے، جو ان دلائل کو بھی جانتا ہے جو ان شبہات کے مقابلے میں جنم لیتے ہیں اور ان کو رد کرتے ہیں۔پس وہ اپنے بندوں کو ان دلائل کا علم عطا کر کے ان کو ان کے سامنے خوب واضح کر دیتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولمَّا بيَّنَ البراهينَ الدالةَ على صحة الحقِّ وبطلان الباطل؛ أخبر تعالى أنَّ هذه سنَّتُه وعادته أن يَقْذِف بالحقِّ على الباطل فيدمَغَهُ فإذا هو زاهقٌ؛ لأنَّه بيَّن من الحقِّ في هذا الموضع وردَّ به أقوالَ المكذِّبين ما كان عبرةً للمعتبرين وآيةً للمتأملين؛ فإنَّك كما ترى كيف اضمحلَّتْ أقوالُ المكذِّبين، وتبيَّن كذِبُهم وعنادُهم، وظهر الحقُّ وسطع، وبطل الباطلُ وانقمعْ، وذلك بسبب بيان {عَلاَّم الغُيوبِ}، الذي يعلم ما تنطوي عليه القلوبُ من الوساوس والشُّبه، ويعلم ما يقابِلُ ذلك ويدفعُه من الحُجج، فيعلِّم بها عبادَه، ويبيِّنُها لهم.