تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 6

اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ اَزۡوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمۡ ؕ وَ اُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلٰی بِبَعۡضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ اِلَّاۤ اَنۡ تَفۡعَلُوۡۤا اِلٰۤی اَوۡلِیٰٓئِکُمۡ مَّعۡرُوۡفًا ؕ کَانَ ذٰلِکَ فِی الۡکِتٰبِ مَسۡطُوۡرًا ﴿۶﴾
یہ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں اور رشتے دار اللہ کی کتاب میں ان کا بعض، بعض پر دوسرے ایمان والوں اور ہجرت کرنے والوں سے زیادہ حق رکھنے والا ہے مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے کوئی نیکی کرو۔ یہ (حکم) کتاب میں ہمیشہ سے لکھا ہوا ہے۔ En
پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں۔ اور رشتہ دار آپس میں کتاب الله کے رُو سے مسلمانوں اور مہاجروں سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں۔ مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ (تو اور بات ہے) ۔ یہ حکم کتاب یعنی (قرآن) میں لکھ دیا گیا ہے
En
پیغمبر مومنوں پر خود ان سے بھی زیاده حق رکھنے والے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں، اور رشتے دار کتاب اللہ کی رو سے بہ نسبت دوسرے مومنوں اور مہاجروں کے آپس میں زیاده حق دار ہیں (ہاں) مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہو۔ یہ حکم کتاب (الٰہی) میں لکھا ہوا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایک ایسی خبر بیان کرتا ہے جس کے ذریعے سے وہ رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال اور آپ کے مرتبے کو پہچان سکتے ہیں تاکہ وہ اس حال اور مرتبہ کے مطابق آپ کے ساتھ معاملہ کریں، چنانچہ فرمایا ﴿اَلنَّبِیُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں۔ یعنی انسان کے لیے سب سے زیادہ قریب اور سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومن کے لیے خود اس کی ذات پر بھی مقدم ہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خیرخواہی کرتے ہیں، ان کے ساتھ شفقت و محبت سے پیش آتے ہیں۔ مخلوق میں سب سے بڑھ کر رحیم اور سب سے زیادہ مہربان ہیں۔ ان پر مخلوق میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ہے کیونکہ انھیں اگر ذرہ بھر بھلائی حاصل ہوئی ہے یا ان سے کوئی ذرہ بھر برائی دور ہوئی ہے تو آپ کے ہاتھ سے اور آپ کے سبب سے ہوئی ہے۔
اس لیے جب کبھی اس کے نفس کی مراد یا کسی اور شخص کی مراد، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سے متعارض ہو تو اہل ایمان پر واجب ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کو مقدم رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے، کسی شخص کے قول کا، خواہ وہ کوئی ہی کیوں نہ ہو، مقابلہ نہ کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی جان، مال اور اولاد کو فدا کر دیں، آپ کی محبت کو تمام مخلوق کی محبت پر مقدم رکھیں، جب تک کہ آپ بول نہ لیں، ہرگز نہ بولیں، اور آپ سے آگے نہ بڑھیں۔
رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ، مومنوں کے باپ ہیں، جیسا کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قراء ت میں پڑھا گیا ہے، آپ اہل ایمان کی اسی طرح تربیت کرتے ہیں جس طرح باپ اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے۔
اب اس باپ ہونے پر یہ اصول مترتب ہوتا ہے کہ آپ کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں۔ یعنی حرمت، احترام اور اکرام کے اعتبار سے نہ کہ خلوت و محرمیت کے اعتبار سے۔ گویا یہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے قصے کا مقدمہ ہے جو کہ عنقریب آئے گا، زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما اس سے پہلے زید بن محمد کے نام سے پکارے جاتے تھے۔ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَ٘اۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ (الاحزاب:33؍40) محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کا نسب اور آپ کی طرف انتساب دونوں منقطع کر دیے۔ اس آیت کریمہ میں آگاہ فرما دیا کہ تمام اہل ایمان، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد ہیں۔ کسی کو کسی دوسرے پر کوئی اختصاص حاصل نہیں۔ اگرچہ کسی کا منہ بولا بیٹا ہونے کا انتساب منقطع ہو گیا مگر نسب ایمانی منقطع نہیں ہوا اس لیے اسے غمزدہ اور متاسف نہیں ہونا چاہیے۔
اس آیت کریمہ سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اہل ایمان کی مائیں ہیں، لہٰذا آپ کے بعد وہ کسی کے لیے حلال نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں صراحت فرما دی ہے: ﴿وَلَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا (الاحزاب:33؍53) اور نہ تمھارے لیے یہ جائز ہے کہ تم کبھی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرو۔
﴿وَاُولُوا الْاَرْحَامِ یعنی رشتہ دار، خواہ وہ قریب کے رشتہ دار ہوں یا دور کے رشتہ دار۔ ﴿بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ آپس میں کتاب اللہ کی رو سے ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی رو سے۔ پس وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کریں گے۔ قرابت کا تعلق دوستی اور حلف وغیرہ کے تعلق سے بڑھ کر ہے۔ اس آیت کریمہ سے پہلے، ان اسباب کی بنا پر رشتہ داروں کی بجائے منہ بولے بیٹے وارث بنتے تھے، اس آیت کریمہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اس توارث کو منقطع کر دیا۔ اپنے لطف و کرم اور حکمت کی بنا پر حقیقی اقارب کو وارث بنا دیا کیونکہ اگر معاملہ سابقہ عادت اور رواج کے مطابق چلتا رہتا تو شر اور فساد پھیل جاتا اور قریب کے رشتہ داروں کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے حیلہ سازی بکثرت رواج پا جاتی۔
﴿مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْ٘مُهٰؔجِرِیْنَ خواہ یہ قریبی رشتہ مومن اور مہاجر ہوں یا غیر مہاجر ہوں، بہر حال رشتہ دار مقدم ہیں۔ یہ آیت کریمہ تمام معاملات میں قریبی رشتہ داروں کی ولایت پر دلیل ہے، مثلاً: نکاح اور مال وغیرہ کی ولایت ﴿اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِیٰٓؔىِٕكُمْ۠ مَّعْرُوْفًا مگر یہ کہ تم اپنے دوستوں سے احسان کرنا چاہو۔ یعنی ان کا کوئی مقرر شدہ حق نہیں ہے یہ صرف تمھارے ارادے پر منحصر ہے۔ اگر تم ان کو نیکی کے طور پر کوئی عطیہ دینا چاہو تو دے دو۔ ﴿كَانَ ذٰلِكَ یہ حکم مذکور ﴿ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا کتاب میں لکھ دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مقدم کر دیا ہے، لہٰذا اس کا نفاذ لازمی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى المؤمنين خبراً يعرِفون به حالة الرسول - صلى الله عليه وسلم - ومرتَبَتَه، فيعامِلونه يمقتضى تلك الحالة، فقال: {النبيُّ أولى بالمؤمنين من أنفُسِهم}: أقرب ما للإنسان وأولى ما له نفسُه؛ فالرسولُ أولى به من نفسِهِ؛ لأنَّه عليه الصلاة والسلام بَذَلَ لهم من النُّصح والشفقة والرأفة ما كان به أرحم الخلق وأرأفهم؛ فرسولُ الله أعظمُ الخلق مِنَّةً عليهم من كلِّ أحدٍ؛ فإنَّه لم يصل إليهم مثقالُ ذرَّةٍ من الخير ولا اندفَعَ عنهم مثقالُ ذرَّةٍ من الشرِّ إلاَّ على يديه وبسببه؛ فلذلك وجب عليهم إذا تعارض مرادُ النفس أو مرادُ أحدٍ من الناس مع مرادِ الرسول أنْ يقدم مراد الرسول، وأنْ لا يعارِضَ قول الرسول بقول أحدٍ كائناً ما كان، وأنْ يَفْدوه بأنفسهم وأموالهم وأولادهم، ويقدِّموا محبَّته على محبة الخلقِ كلِّهم، وألاَّ يقولوا حتى يقولَ، ولا يتقدَّموا بين يديه، وهو - صلى الله عليه وسلم - أبٌ للمؤمنين؛ كما في قراءة بعضِ الصحابة يربِّيهم كما يربِّي الوالدُ أولاده، فترتَّب على هذه الأبوَّة أنْ كان نساؤه أمهاتِهِم؛ أي: في الحرمة والاحترام والإكرام، لا في الخلوة والمحرميَّة، وكأنَّ هذا مقدِّمة لما سيأتي في قصة زيد بن حارثة، الذي كان يُدْعى قبلُ زيد بن محمد، حتى أنزل الله: {ما كانَ محمدٌ أبا أحدٍ من رجالِكم}، فقطع نَسَبَه وانتسابَه منه.

فأخبر في هذه الآية أنَّ المؤمنين كلَّهم أولادٌ للرسول؛ فلا مزيَّة لأحدٍ عن أحدٍ، وإن انقطعَ عن أحدِهم انتسابُ الدعوة؛ فإنَّ النسبَ الإيمانيَّ لم ينقطعْ عنه؛ فلا يحزنْ ولا يأسفْ، وترتَّب على أنَّ زوجات الرسول أمهاتُ المؤمنين: أنَّهنَّ لا يحللنَ لأحدٍ من بعده؛ كما سيصرّح بذلك، ولا يحلُّ لكم أن تَنْكِحوا أزواجَه من بعدِهِ أبدا.

{وأولو الأرحام}؛ أي: الأقارب قَرُبوا أو بعدوا {بعضُهم أولى ببعضٍ في كتاب الله}؛ أي: في حكمه، فيرثُ بعضُهم بعضاً ويبرُّ بعضُهم بعضاً؛ فهم أولى من الحلف والنصرة، والأدعياءُ الذين كانوا من قبلُ يرثون بهذه الأسباب دون ذوي الأرحام، فقطع تعالى التوارُثَ بذلك، وجعله للأقارب لطفاً منه وحكمةً؛ فإنَّ الأمر لو استمرَّ على العادة السابقة؛ لحصل من الفساد والشرِّ والتحيُّل لحرمان الأقارب من الميراث شيءٌ كثيرٌ، {من المؤمنينَ والمهاجرينَ}؛ أي: سواء كان الأقاربُ مؤمنين مهاجرين أو غيرَ مهاجرين؛ فإنَّ ذوي الأرحام مقدَّمون في ذلك. وهذه الآية حجَّة على ولاية ذوي الأرحام في جميع الولايات؛ كولاية النكاح والمال وغير ذلك، {إلاَّ أن تَفْعَلوا إلى أوليائِكُم معروفاً}؛ أي: ليس لهم حقٌّ مفروضٌ، وإنَّما هو بإرادتِكم، إنْ شئتُم أن تتبرَّعوا لهم تبرُّعاً وتُعطوهم معروفاً منكم، {كان}: ذلك الحكم المذكور {في الكتابِ مسطوراً}؛ أي: قد سُطِرَ وكُتبَ وقدَّره الله؛ فلا بدَّ من نفوذه.