تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 7

وَ اِذۡ اَخَذۡنَا مِنَ النَّبِیّٖنَ مِیۡثَاقَہُمۡ وَ مِنۡکَ وَ مِنۡ نُّوۡحٍ وَّ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ مُوۡسٰی وَ عِیۡسَی ابۡنِ مَرۡیَمَ ۪ وَ اَخَذۡنَا مِنۡہُمۡ مِّیۡثَاقًا غَلِیۡظًا ۙ﴿۷﴾
اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ان کا پختہ عہد لیا اور تجھ سے اور نوح اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے بھی اور ہم نے ان سے بہت پختہ عہد لیا۔ En
اور جب ہم نے پیغمبروں سے عہد لیا اور تم سے نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے۔ اور عہد بھی اُن سے پکّا لیا
En
جب کہ ہم نے تمام نبیوں سے عہد لیا اور (بالخصوص) آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور موسیٰ سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے، اور ہم نے ان سے (پکا اور) پختہ عہد لیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے تمام انبیائے کرام سے عام طور پر اور آیت کریمہ میں مذکور پانچ اولوالعزم رسولوں سے خاص طور پر نہایت پختہ اور موکد عہد لیا کہ وہ اللہ کے دین پر اور اس کے راستے میں جہاد پر قائم رہیں گے۔ اقامت دین اور جہاد ایسا راستہ ہے جس پر گزشتہ انبیاء و مرسلین گامزن رہے اور یہ سلسلہ افضل الانبیاء والمرسلین سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آ کر ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ انبیاء کے نقش قدم پر چلیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انبیائے کرام اور ان کے متبعین سے اس میثاق کے بارے میں پوچھے گا کہ کیا انھوں نے اس عہد کو پورا کیا اور اپنے عہد پر پورے اترے تاکہ انھیں نعمتوں بھری جنت عطا کی جائے؟ یا انھوں نے کفر کیا تاکہ انھیں دردناک عذاب دیا جائے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ (الأحزاب:33؍23) اہل ایمان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنھوں نے اللہ سے کیا ہوا عہد سچ کر دکھایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنَّه أخذ من النبيِّين عموماً ومن أولي العزم - وهم هؤلاء الخمسة المذكورون خصوصاً - ميثاقَهم الغليظَ وعهدَهم الثقيل المؤكَّد على القيام بدين الله والجهادِ في سبيله، وأنَّ هذا سبيلٌ قد مشى عليه الأنبياءُ المتقدِّمون، حتى خُتموا بسيِّدهم وأفضلهم محمد - صلى الله عليه وسلم -، وأمر الناس بالاقتداء بهم، وسيسأل الله الأنبياء وأتباعهم عن هذا العهد الغليظ؛ هل وَفوا فيه وصدَقوا فيثيبهم جناتِ النعيم، أم كفروا فيعذِّبهم العذاب الأليم؟ قال تعالى: {من المؤمنينَ رجالٌ صَدَقوا ما عاهَدوا الله عليه}.