انھیں ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے ہاں زیادہ انصاف کی بات ہے، پھر اگر تم ان کے باپ نہ جانو تو وہ دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے دوست ہیں اور تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں جس میں تم نے خطا کی اور لیکن جو تمھارے دلوں نے ارادے سے کیا اور اللہ ہمیشہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
مومنو! لےپالکوں کو اُن کے (اصلی) باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ کہ خدا کے نزدیک یہی بات درست ہے۔ اگر تم کو اُن کے باپوں کے نام معلوم نہ ہوں تو دین میں وہ تمہارے بھائی اور دوست ہیں اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کچھ گناہ نہیں۔ لیکن جو قصد دلی سے کرو (اس پر مواخذہ ہے) اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
لے پالکوں کو ان کے (حقیقی) باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ اللہ کے نزدیک پورا انصاف یہی ہے۔ پھر اگر تمہیں ان کے (حقیقی) باپوں کا علم ہی نہ ہو تو وه تمہارے دینی بھائی اور دوست ہیں، تم سے بھول چوک میں جو کچھ ہو جائے اس میں تم پر کوئی گناه نہیں، البتہ گناه وه ہے جس کا تم اراده دل سے کرو۔ اللہ تعالیٰ بڑا ہی بخشنے واﻻ مہربان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ حکم دیا کہ پہلی صورت کو ترک کیا جائے جو قول باطل کو متضمن ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿اُدْعُوْهُمْ ﴾”ان کو پکارو“ یعنی اپنے منہ بولے بیٹوں کو ﴿لِاٰبَآىِٕهِمْ ﴾ ان کے حقیقی باپوں سے منسوب کرتے ہوئے جنھوں نے ان کو جنم دیا ہے۔ ﴿هُوَاَقْسَطُعِنْدَاللّٰهِ ﴾ یہ زیادہ قرین عدل، زیادہ درست اور ہدایت کے زیادہ قریب ہے۔
﴿فَاِنْلَّمْتَعْلَمُوْۤااٰبَآءَهُمْ ﴾”پس اگر تم ان کے (حقیقی) باپوں کو نہیں جانتے“﴿فَاِخْوَانُكُمْفِیالدِّیْنِوَمَوَالِیْكُمْ ﴾ تو وہ اللہ کے دین میں تمھارے بھائی اور تمھارے موالی ہیں۔ تم انھیں اخوت ایمانی اور موالات اسلام کی نسبت سے پکارو۔ جس شخص نے ان کو متبنیٰ بنایا ہے اس کے لیے اس دعویٰ کو ترک کرنا حتمی ہے۔ یہ دعویٰ جائز نہیں۔
رہا ان کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارنا، تو اگر ان کا نام معلوم ہو تو ان کی طرف منسوب کر کے پکارو اور اگر ان کا نام معلوم نہ ہو تو صرف اسی پر اکتفا کرو جو معلوم ہے اور وہ ہے اخوت دینی اور موالات اسلامی۔ یہ نہ سمجھو کہ ان کے باپوں کے ناموں کے بارے میں عدم علم اس بات کے لیے عذر ہے کہ تم ان کو متبنیٰ بنانے والوں کی طرف منسوب کر کے پکارو، کیونکہ اس عذر سے حرمت زائل نہیں ہو سکتی۔
﴿وَلَ٘یْسَعَلَیْكُمْجُنَاحٌفِیْمَاۤاَخْطَاْتُمْبِهٖ﴾”اور جو بات تم سے غلطی سے ہوگئی ہو اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔“ یعنی اگر تم میں سے کوئی غلطی سے اس کو کسی شخص کی طرف منسوب کر کے پکارے تو اس پر کوئی مواخذہ نہیں یا ظاہری طور پر اس کے باپ کا نام معلوم ہے اور تم اس کو اسی کی طرف پکارتے ہو حالانکہ وہ باطن میں اس کا باپ نہیں ہے، تب اس میں کوئی حرج نہیں جبکہ یہ غلطی سے ہو۔ ﴿وَلٰكِنْ ﴾”مگر“ وہ صرف اس چیز میں تمھارا مواخذہ کرتا ہے ﴿مَّاتَعَمَّدَتْقُ٘لُوْبُكُمْ ﴾”جس کا تمھارے دلوں نے عمدًا ارتکاب کیا ہے۔“ جو تم نے جان بوجھ کرنا جائز بات کہی ہو۔ ﴿وَكَانَاللّٰهُغَ٘فُوْرًارَّحِیْمًا ﴾ اس نے تمھیں بخش دیا اور تمھیں اپنی رحمت کے سائے میں لے لیا کیونکہ اس نے تمھیں تمھارے سابقہ گناہوں پر سزا نہیں دی، تم نے جو غلطی کی اس پر درگزر کیا اور شرعی احکام بیان کرکے تم پر رحم کیا جن میں تمھارے دین اور دنیا کی اصلاح ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم صرح لهم بترك الحالة الأولى المتضمِّنة للقول الباطل، فقال: {ادْعوهُم}؛ أي: الأدعياء {لآبائِهِم}: الذين ولدوهم {هو أقسطُ عند الله}؛ أي: أعدلُ وأقوم وأهدى، {فإن لم تَعلَموا آباءَهم}: الحقيقيين {فإخوانكم في الدين وَمَواليكُم}؛ أي: إخوتكم في دين الله ومواليكم في ذلك؛ فادْعوهم بالأخوة الإيمانيَّة الصادقة والموالاة على ذلك؛ فترك الدعوة إلى من تبنَّاهم حَتْمٌ لا يجوز فعلها، وأما دعاؤهم لآبائهم؛ فإنْ علموا؛ دعوا إليهم، وإن لم يعلموا؛ اقتُصِر على ما يُعْلَمُ منهم، وهو أخوة الدين والموالاة؛ فلا تظنُّوا أنَّ حالة عدم علمكم بآبائهم عذرٌ في دعوتهم إلى مَن تبنَّاهم؛ لأن المحذور لا يزول بذلك.
{وليس عليكم جُناحٌ فيما أخطأتُم به}: بأنْ سَبَقَ على لسان أحدِكم دعوتُهُ إلى مَنْ تبنَّاه؛ فهذا غير مؤاخذٍ به، أو علم أبوه ظاهراً فدعوتُموه إليه، وهو في الباطن غير أبيه ؛ فليس عليكم في ذلك حَرَجٌ إذا كان خطأ. {ولكنْ} يؤاخِذُكُم بما تعمَّدَتْ قلوبُكُم من الكلام بما لا يجوزُ. {وكان الله غفوراً رحيماً}: غفر لكم ورحمكم؛ حيث لم يعاقِبْكم بما سَلَفَ، وسمح لكم بما أخطأتُم به، ورحِمَكُم؛ حيث بين لكم أحكامَه التي تُصْلِحُ دينَكم ودُنياكم؛ فله الحمد تعالى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔