تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {” اَلنَّبِيُّ “} میں الف لام عہد کا ہے، اس لیے اس کا ترجمہ ”یہ نبی“ کیا گیا ہے۔
➌ {” اَوْلٰى “} کا معنی {”أَقْرَبُ“} (زیادہ قریب) بھی ہے اور {”أَحَقُّ“} (زیادہ حق رکھنے والا) بھی۔ یہاں اگر معنی {”أَقْرَبُ“} کیا جائے تو مطلب یہ ہے کہ کسی قرابت دار کا قرب آدمی کے ساتھ اتنا نہیں جتنا قرب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایمان والوں کے ساتھ ہے۔ اس قرب سے مراد تعلق کا قرب ہے نہ کہ جسمانی قرب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت ہر مومن کے ساتھ اس کی جان سے بھی زیادہ قریب رہتے ہوں۔ بلکہ جس طرح تمام قرابت دار جہاں بھی ہوں ان کا آپس میں نسبی قرب اور تعلق قائم رہتا ہے، اسی طرح مومن جہاں بھی ہو اس کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت تمام رشتہ داروں حتیٰ کہ اس کی اپنی جان کی قرابت سے بھی زیادہ ہے۔ کیونکہ اس کے رشتہ دار، حتیٰ کہ اس کا نفس بھی بعض اوقات اسے نقصان پہنچا سکتا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مومنوں کے لیے خیر ہی خیر کا باعث ہیں۔ مگر یہاں{ ”أَحَقُّ“} کا معنی زیادہ مناسب ہے، بلکہ {”أَقْرَبُ“} سے مراد بھی {”أَحَقُّ“} (زیادہ حق دار) ہی ہے، یعنی اس قرب کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ حق رکھنے والے ہیں، کیونکہ اس کے متصل بعد رشتہ داروں کے بارے میں یہی لفظ فرمایا: «{ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ }» یعنی رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق اس کے تمام رشتہ داروں سے، حتیٰ کہ اس کی اپنی جان سے بھی زیادہ ہے۔ شاہ عبدالقادر لکھتے ہیں: ”نبی نائب ہے اللہ کا، اپنی جان مال میں اپنا تصرف (اتنا) نہیں چلتا جتنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ اپنی جان دہکتی آگ میں ڈالنی روا نہیں اور نبی حکم کرے تو فرض ہے۔“ (موضح) آگے اسی سورت میں فرمایا: «{ وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّ لَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا }» [الأحزاب: ۳۶] ”اور کبھی بھی نہ کسی مومن مرد کا حق ہے اور نہ کسی مومن عورت کا کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کر دیں کہ ان کے لیے ان کے معاملے میں اختیار ہو اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے تو یقینا وہ گمراہ ہو گیا، واضح گمراہ ہونا۔“
اپنی جان سے بھی زیادہ حق رکھنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ اپنی ذات سے بھی بڑھ کر آپ کا حکم مانا جائے۔ ایک طرف دنیا جہاں کے کسی بھی شخص، حتیٰ کہ اپنی ذات کا تقاضا ہو، دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہو تو آپ کے فرمان کو ترجیح دی جائے، اور یہ بات بھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتّٰی أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَ وَلَدِهِ وَ النَّاسِ أَجْمَعِيْنَ] [بخاري، الإیمان، باب حب الرسول صلی اللہ علیہ وسلم من الإیمان: ۱۴، ۱۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ میں اس کے لیے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ مجھے میری جان کے سوا ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لاَ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! حَتّٰی أَكُوْنَ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ نَفْسِكَ] ”نہیں (اے عمر!) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جب تک میں تیرے لیے تیری جان سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔“ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: [فَإِنَّهُ الْآنَ، وَاللّٰهِ! لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِيْ] ”اب اللہ کی قسم! آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْآنَ يَا عُمَرُ!] ”اب، اے عمر!“ [بخاري، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبي صلی اللہ علیہ وسلم ؟: ۶۶۳۲] امام بخاری رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلاَّ وَأَنَا أَوْلٰی بِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اقْرَءُ وْا إِنْ شِئْتُمْ: «{ اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ }» [الأحزاب: ۶] فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ مَاتَ وَتَرَكَ مَالاً فَلْيَرِثْهُ عَصَبَتُهُ مَنْ كَانُوْا، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَلْيَأْتِنِيْ فَأَنَا مَوْلاَهُ] [بخاري، الاستقراض، باب الصلاۃ علی من ترک دینا: ۲۳۹۹، عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ] ”جو بھی مومن ہے، میں دنیا اور آخرت میں اس پر زیادہ حق رکھنے والا، یا سب سے زیادہ اس سے قرب رکھنے والا ہوں، چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: «اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ» تو جو مومن کوئی مال چھوڑ جائے اس کے وارث اس کے عصبہ ہوں گے، جو بھی ہوں اور جو کوئی قرض یا بال بچے چھوڑ جائے تو (اس کا وارث) میرے پاس آئے، میں اس کا ولی ہوں۔“
➍ { وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ:} نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خصوصیت کی بنا پر جو اوپر ذکر ہوئی، ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کی اپنی منہ بولی مائیں تو کسی معنی میں بھی ان کی مائیں نہیں، مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔ مائیں ہونے سے مراد ان کی تعظیم و تکریم ہے اور یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان سے نکاح جائز نہیں۔ دوسرے احکام مثلاً، خلوت، پردہ، ان کی اولاد سے شادی وغیرہ میں وہ ان کی ماں کی طرح نہیں۔
➎ { وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کی آبادکاری اور معاشی ضرورتوں کے لیے ایک مہاجر اور ایک انصاری کو آپس میں ایک دوسرے کا بھائی بنا دیا، اسے مؤاخات کہتے ہیں۔ یہ بھائی چارہ اتنا بڑھا کہ وہ ایک دوسرے کے وارث اور ولی قرار پا گئے۔ فوت ہونے پر مہاجر کی میراث رشتہ داروں کے بجائے اس کے انصاری بھائی کو ملتی اور انصاری کی میراث مہاجر کو ملتی۔ سورۂ احزاب کی اس آیت میں اس کے منسوخ ہونے کا حوالہ دیا گیا۔ دیکھیے سورۂ انفال (۷۲ تا ۷۴) یہاں ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ منہ کے ساتھ کہنے سے نہ کوئی ماں بنتی ہے، نہ بیٹا، نہ ہی بھائی، اس لیے اب وراثت کے زیادہ حق دار رشتے کے بھائی ہیں، نہ کہ حلیف ہونے یا عقد مؤاخات کی وجہ سے بننے والے بھائی۔
➏ { اِلَّاۤ اَنْ تَفْعَلُوْۤا اِلٰۤى اَوْلِيٰٓىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا:} یعنی اپنے مومن یا مہاجر بھائیوں کے ساتھ میراث کے سوا کوئی نیکی کرو تو درست ہے، مثلاً زندگی میں ان سے احسان والا سلوک کرو، انھیں ہدیہ وغیرہ دو، مرنے کے بعد ان کے حق میں ثلث تک وصیت کر جاؤ، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
➐ { كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا:} یعنی لوحِ محفوظ میں اصل حکم یہی ہے، گو لوگوں نے دوسروں کو وارث بنانے کا رواج بنا لیا تھا، مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ منسوخ ہو گا، اس لیے اسے منسوخ کر کے اصل حکم بحال کر دیا ہے۔ یا مطلب یہ ہے کہ یہ حکم کتاب اللہ، یعنی قرآن مجید میں پہلے لکھا جا چکا ہے، کیونکہ یہ حکم سورۂ انفال (۷۲ تا ۷۴) میں نازل ہوا جو سورۂ احزاب سے پہلے نازل ہوئی۔ (ابن عاشور)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
1۔ سیدنا انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس کو میری محبت، اولاد، والدین اور سب لوگوں سے زیادہ نہ ہو“ [مسلم، کتاب الایمان۔ باب وجوب محبۃ رسول اللہ]
2۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنی خواہش نفس کو اس چیز کے تابع نہ کر دے جو میں لایا ہوں“ [شرح السنۃ۔ بحوالہ مشکوٰۃ۔ کتاب الاعتصام بالکتاب والسنہ۔ فصل ثانی]
3۔ سیدنا عبد اللہ بن ہشام فرماتے ہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عمرؓ کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے۔ سیدنا عمرؓ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ میرے نزدیک اپنی جان کے علاوہ ہر چیز سے محبوب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ جب تک میں تمہارے نزدیک تمہاری جان سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں، تم مومن نہیں ہو سکتے“ سیدنا عمرؓ نے عرض کیا: ”اللہ کی قسم! اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے نزدیک میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اے عمر!“ (یعنی اب تم صحیح مسلم ہو) [بخاری۔ کتاب الایمان والنذور۔ باب کیف کان یمین النبی]
[9] جب نبی روحانی باپ ہوا تو اس کی بیویاں روحانی مائیں ہوئیں۔ یا جب نبی کی بیویاں امت کی مائیں ہیں تو نبی ان کا باپ ہوا۔ لیکن ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف احترام کے پہلو میں امت کی مائیں ہیں اور ان سے کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد نکاح بھی نہیں کر سکتا اور باقی احکام بدستور رہیں گے۔ مثلاً وہ مومنوں سے باقاعدہ پردہ کریں گی اور وہ انھیں اجنبی ہی سمجھیں گی نہ ہی وہ کسی امتی کی وراثت میں دعویدار بن سکتی ہیں۔ وغیرہ۔
[11] یعنی مؤاخات کے بھائیوں کو ایک دوسرے کا وارث بنا دینا ایک عارضی قانون تھا۔ مستقل قانون شریعت یہی ہے کہ وراثت کے حقدار قرابتدار ہی ہوتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمایا «فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا» ۱؎ [4-النساء:65]، ’ تیرے رب کی قسم یہ مومن نہ ہونگے جب تک کہ اپنے آپس کے تمام اختلافات میں تجھے منصف نہ مان لیں اور تیرے تمام تر احکام اور فیصلوں کو دل و جان بہ کشادہ پیشانی قبول نہ کر لیں ‘۔
صحیح حدیث شریف میں ہے { اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے کوئی با ایمان نہیں ہوسکتا، جب تک کہ میں اسے اس کے نفس سے اس کے مال سے اس کی اولاد سے اور دنیا کے کل لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:15]
ایک اور صحیح حدیث میں ہے { سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام جہان سے زیادہ محبوب ہیں لیکن ہاں خود میرے اپنے نفس سے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { نہیں نہیں عمر! جب تک کہ میں تجھے خود تیرے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ بن جاؤں }۔ یہ سن کر جناب عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے ”قسم اللہ کی یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اب مجھے ہر چیز سے یہاں تک کہ میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اب ٹھیک ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6632]
بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے { حضورصلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { تمام مومنوں کا زیادہ حقدار دنیا اور آخرت میں خود ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ میں ہوں۔ اگر تم چاہو تو پڑھ لو «اَلنَّبِيُّ اَوْلٰى بالْمُؤْمِنِيْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗٓ اُمَّهٰتُهُمْ وَاُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُهٰجِرِيْنَ اِلَّآ اَنْ تَفْعَلُوْٓا اِلٰٓى اَوْلِيٰىِٕكُمْ مَّعْرُوْفًا كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:6] سنو جو مسلمان مال چھوڑ کر مرے اس کا مال تو اس کے وارثوں کا حصہ ہے۔ اور اگر کوئی مر جائے اور اس کے ذمہ قرض ہو یا اس کے چھوٹے چھوٹے بال بچے ہوں تو اس قرض کی ادائیگی کا میں ذمہ دار ہوں اور ان بچوں کی پرورش میرے ذمہ ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2399]
ہاں ماں کے اور احکام مثلاً خلوت یا ان کی لڑکیوں اور بہنوں سے نکاح کی حرمت یہاں ثابت نہیں گو بعض علماء نے ان کی بیٹیوں کو بھی مسلمانوں کی بہنیں لکھا ہے جیسے کہ حضرت امام شافعی رحمہ اللہ نے مختصر میں نصاً فرمایا ہے لیکن یہ عبارت کا اطلاق ہے نہ کہ حکم کا اثبات۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کو جو کسی نہ کسی ام المؤمنین کے بھائی تھے انہیں ماموں کہا جا سکتا ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے امام شافعی رحمہ اللہ نے تو کہا ہے کہہ سکتے ہیں۔ رہی یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو المؤمنین بھی کہہ سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ خیال رہے کہ ابوالمؤمنین کہنے میں مسلمان عورتیں بھی آ جائیں گی جمع مذکر سالم میں باعتبار تغلیب کے مونث بھی شامل ہے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے کہ ”نہیں کہہ سکتے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ کے دو قولوں میں بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے۔
ابی بن کعب اور ابن عباس رضی اللہ عنہم کی قرأت میں «اُمَّهَاتُهُمْ» کے بعد یہ لفظ ہیں «وَهُوَ اَبٌ لَّهُمْ» یعنی ’ آپ ان کے والد ہیں ‘۔ مذہب شافعی میں بھی ایک قول یہی ہے۔
اور کچھ تائید حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { میں تمہارے لیے قائم مقام باپ کے ہوں میں تمہیں تعلیم دے رہا ہوں سنو! تم میں سے جب کوئی پاخانے میں جائے تو قبلہ کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھے۔ نہ اپنے داہنے ہاتھ سے ڈھیلے لے نہ داہنے ہاتھ سے استنجا کرے }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین ڈھیلے لینے کا حکم دیتے تھے اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے کی ممانعت فرماتے تھے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:8،قال الشيخ الألباني:حسن]
پھر فرماتا ہے کہ ’ بہ نسبت عام مومنوں مہاجرین اور انصار کے ورثے کے زیادہ مستحق قرابتدار ہیں ‘۔ اس سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین اور انصار میں جو بھائی چارہ کرایا تھا اسی کے اعتبار سے یہ آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہوتے تھے اور قسمیں کھا کر ایک دوسروں کے جو حلیف بنے ہوئے تھے وہ بھی آپس میں ورثہ بانٹ لیا کرتے تھے۔ اس کو اس آیت نے منسوخ کر دیا۔
پہلے اگر انصاری مرگیا تو اس کے وارث اس کی قرابت کے لوگ نہیں ہوتے تھے بلکہ مہاجر ہوتے تھے جن کے درمیان اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھائی چارہ کرا دیا تھا۔
حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”یہ حکم خاص ہم انصار و مہاجرین کے بارے میں اترا ہے ہم جب مکہ چھوڑ کر مدینے آئے تو ہمارے پاس کچھ مال نہ تھا یہاں آ کر ہم نے انصاریوں سے بھائی چارہ کیا یہ بہترین بھائی ثابت ہوئے یہاں تک کہ ان کے فوت ہونے کے بعد ان کے مال کے وارث بھی ہوتے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بھائی چارہ حضرت خارجہ بن زید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فلاں کے ساتھ۔ تھا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا ایک زرقی شخص کے ساتھ۔ خود میرا سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ۔ یہ زخمی ہوئے اور زخم بھی کاری تھے اگر اس وقت ان کا انتقال ہو جاتا تو میں بھی ان کا وارث بنتا۔ پھر یہ آیت اتری اور میراث کا عام حکم ہمارے لیے بھی ہوگیا۔“ ۱؎ [مستدرک حاکم:443/3]
پھر فرماتا ہے ’ ورثہ تو ان کا نہیں لیکن ویسے اگر تم اپنے ان مخلص احباب کے ساتھ سلوک کرنا چاہو تو تمہیں اخیتار ہے۔ وصیت کے طور پر کچھ دے دلا سکتے ہو ‘۔
پھر فرماتا ہے ’ اللہ کا یہ حکم پہلے ہی سے اس کتاب میں لکھا ہوا تھا جس میں کوئی ترمیم وتبدیلی نہیں ہوئی ‘۔ بیچ میں جو بھائی چارے پر ورثہ بٹتا تھا یہ صرف ایک خاص مصلحت کی بنا پر خاص وقت تک کے لیے تھا اب یہ ہٹا دیا گیا اور اصلی حکم دے دیا گیا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى المؤمنين خبراً يعرِفون به حالة الرسول - صلى الله عليه وسلم - ومرتَبَتَه، فيعامِلونه يمقتضى تلك الحالة، فقال: {النبيُّ أولى بالمؤمنين من أنفُسِهم}: أقرب ما للإنسان وأولى ما له نفسُه؛ فالرسولُ أولى به من نفسِهِ؛ لأنَّه عليه الصلاة والسلام بَذَلَ لهم من النُّصح والشفقة والرأفة ما كان به أرحم الخلق وأرأفهم؛ فرسولُ الله أعظمُ الخلق مِنَّةً عليهم من كلِّ أحدٍ؛ فإنَّه لم يصل إليهم مثقالُ ذرَّةٍ من الخير ولا اندفَعَ عنهم مثقالُ ذرَّةٍ من الشرِّ إلاَّ على يديه وبسببه؛ فلذلك وجب عليهم إذا تعارض مرادُ النفس أو مرادُ أحدٍ من الناس مع مرادِ الرسول أنْ يقدم مراد الرسول، وأنْ لا يعارِضَ قول الرسول بقول أحدٍ كائناً ما كان، وأنْ يَفْدوه بأنفسهم وأموالهم وأولادهم، ويقدِّموا محبَّته على محبة الخلقِ كلِّهم، وألاَّ يقولوا حتى يقولَ، ولا يتقدَّموا بين يديه، وهو - صلى الله عليه وسلم - أبٌ للمؤمنين؛ كما في قراءة بعضِ الصحابة يربِّيهم كما يربِّي الوالدُ أولاده، فترتَّب على هذه الأبوَّة أنْ كان نساؤه أمهاتِهِم؛ أي: في الحرمة والاحترام والإكرام، لا في الخلوة والمحرميَّة، وكأنَّ هذا مقدِّمة لما سيأتي في قصة زيد بن حارثة، الذي كان يُدْعى قبلُ زيد بن محمد، حتى أنزل الله: {ما كانَ محمدٌ أبا أحدٍ من رجالِكم}، فقطع نَسَبَه وانتسابَه منه.
فأخبر في هذه الآية أنَّ المؤمنين كلَّهم أولادٌ للرسول؛ فلا مزيَّة لأحدٍ عن أحدٍ، وإن انقطعَ عن أحدِهم انتسابُ الدعوة؛ فإنَّ النسبَ الإيمانيَّ لم ينقطعْ عنه؛ فلا يحزنْ ولا يأسفْ، وترتَّب على أنَّ زوجات الرسول أمهاتُ المؤمنين: أنَّهنَّ لا يحللنَ لأحدٍ من بعده؛ كما سيصرّح بذلك، ولا يحلُّ لكم أن تَنْكِحوا أزواجَه من بعدِهِ أبدا.
{وأولو الأرحام}؛ أي: الأقارب قَرُبوا أو بعدوا {بعضُهم أولى ببعضٍ في كتاب الله}؛ أي: في حكمه، فيرثُ بعضُهم بعضاً ويبرُّ بعضُهم بعضاً؛ فهم أولى من الحلف والنصرة، والأدعياءُ الذين كانوا من قبلُ يرثون بهذه الأسباب دون ذوي الأرحام، فقطع تعالى التوارُثَ بذلك، وجعله للأقارب لطفاً منه وحكمةً؛ فإنَّ الأمر لو استمرَّ على العادة السابقة؛ لحصل من الفساد والشرِّ والتحيُّل لحرمان الأقارب من الميراث شيءٌ كثيرٌ، {من المؤمنينَ والمهاجرينَ}؛ أي: سواء كان الأقاربُ مؤمنين مهاجرين أو غيرَ مهاجرين؛ فإنَّ ذوي الأرحام مقدَّمون في ذلك. وهذه الآية حجَّة على ولاية ذوي الأرحام في جميع الولايات؛ كولاية النكاح والمال وغير ذلك، {إلاَّ أن تَفْعَلوا إلى أوليائِكُم معروفاً}؛ أي: ليس لهم حقٌّ مفروضٌ، وإنَّما هو بإرادتِكم، إنْ شئتُم أن تتبرَّعوا لهم تبرُّعاً وتُعطوهم معروفاً منكم، {كان}: ذلك الحكم المذكور {في الكتابِ مسطوراً}؛ أي: قد سُطِرَ وكُتبَ وقدَّره الله؛ فلا بدَّ من نفوذه.