اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کے گھروں میں مت داخل ہو مگر یہ کہ تمھیں کھانے کی طرف اجازت دی جائے، اس حال میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو اور لیکن جب تمھیں بلایا جائے تو داخل ہو جائو، پھر جب کھا چکو تو منتشر ہو جاؤ اور نہ (بیٹھے رہو) اس حال میں کہ بات میں دل لگانے والے ہو۔ بے شک یہ بات ہمیشہ سے نبی کو تکلیف دیتی ہے، تو وہ تم سے شرم کرتا ہے اور اللہ حق سے شرم نہیں کرتا اور جب تم ان سے کوئی سامان مانگو تو ان سے پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمھارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے اور تمھارا کبھی بھی حق نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ اس کے بعد کبھی اس کی بیویوں سے نکاح کرو۔ بے شک یہ بات ہمیشہ سے اللہ کے نزدیک بہت بڑی ہے۔
En
مومنو پیغمبر کے گھروں میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لئے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے۔ لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھاچکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے۔ اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں) لیکن خدا سچی بات کے کہنے سے شرم نہیں کرتا۔ اور جب پیغمبروں کی بیویوں سے کوئی سامان مانگو تو پردے کے باہر مانگو۔ یہ تمہارے اور ان کے دونوں کے دلوں کے لئے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔ اور تم کو یہ شایاں نہیں کہ پیغمبر خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو۔ بےشک یہ خدا کے نزدیک بڑا (گناہ کا کام) ہے
اے ایمان والو! جب تک تمہیں اجازت نہ دی جائے تم نبی کے گھروں میں نہ جایا کرو کھانے کے لئے ایسے وقت میں کہ اس کے پکنے کا انتظار کرتے رہو بلکہ جب بلایا جائے جاؤ اور جب کھا چکو نکل کھڑے ہو، وہیں باتوں میں مشغول نہ ہوجایا کرو۔ نبی کو تمہاری اس بات سے تکلیف ہوتی ہے۔ تو وه لحاظ کر جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ (بیان) حق میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا، جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز طلب کرو تو پردے کے پیچھے سے طلب کرو۔ تمہارے اور ان کے دلوں کے لئے کامل پاکیزگی یہی ہے، نہ تمہیں یہ جائز ہے کہ تم رسول اللہ کو تکلیف دو اور نہ تمہیں یہ حلال ہے کہ آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔ (یاد رکھو) اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑا (گناه) ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل ہوتے وقت آپ کے آداب کا خیال رکھا کریں، لہٰذا فرمایا: ﴿یٰۤاَیُّهَاالَّذِیْنَاٰمَنُوْالَاتَدْخُلُوْابُیُوْتَالنَّبِیِّاِلَّاۤاَنْیُّؤْذَنَلَكُمْاِلٰىطَعَامٍ ﴾ یعنی کھانے کے لیے داخلے کی اجازت کے بغیر نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں داخل نہ ہوا کرو اور نہ تم ﴿نٰظِرِیْنَاِنٰىهُ ﴾ کھانا تیار ہونے اور اس کے پکنے کا انتظار کیا کرو اور کھانے سے فارغ ہونے کے بعد لوٹنے میں تاخیر نہ کیا کرو۔
اس کا معنی یہ ہے کہ تم دو شرائط کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل ہوا کرو:
(۱) داخل ہونے کی اجازت ملنے کے بعد۔
(۲) تمھارا آپ کے گھر میں بیٹھنا ضرورت کے مطابق ہو۔
اسی لیے فرمایا: ﴿وَلٰكِنْاِذَادُعِیْتُمْفَادْخُلُوْافَاِذَاطَعِمْتُمْفَانْتَشِرُوْاوَلَامُسْتَاْنِسِیْنَ۠لِحَدِیْثٍ ﴾”لیکن جب تمھیں دعوت دی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھو۔“ یعنی کھانے سے پہلے یا بعد میں باتیں کرنے نہ لگ جاؤ۔ پھر اس ممانعت کی حکمت اور فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿اِنَّذٰلِكُمْ ﴾ یعنی ضرورت سے زیادہ تمھارا وہاں انتظار کرنا ﴿كَانَیُؤْذِیالنَّبِیَّ ﴾”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتا ہے“ یعنی وہاں تمھارا بیٹھ کر آپ کو اپنے کام کاج اور دیگر معاملات سے روکے رکھنا، آپ پر شاق گزرتا ہے اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف ہوتی ہے۔ ﴿فَیَسْتَحْیٖمِنْكُمْ ﴾ یعنی وہ شرم کی وجہ سے تمھیں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ جیسا کہ عادت جاریہ ہے کہ لوگ... خاص طور پر شرفاء اور باوقار لوگ... لوگوں کو اپنے گھروں سے نکالتے ہوئے شرماتے ہیں ﴿وَ ﴾”اور“ لیکن ﴿اللّٰهُلَایَسْتَحْیٖمِنَالْحَقِّ ﴾”اللہ تعالیٰ حق سے نہیں شرماتا۔“ شرعی معاملے میں اگر یہ تو ہم لاحق ہو کہ اس کے ترک کرنے میں ادب اور حیا ہے، تو کامل حزم و احتیاط یہ ہے کہ شریعت کی پیروی کی جائے اور یہ یقین رکھا جائے کہ جو چیز شریعت کے خلاف ہے اس میں کوئی ادب نہیں۔ اللہ تعالیٰ تمھیں ایسا حکم دینے سے نہیں شرماتا جس میں تمھارے لیے بھلائی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نرمی ہو خواہ یہ حکم کیسا ہی کیوں نہ ہو۔
یہ تو تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل ہونے کے آداب اور رہے آپ کی ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کے آداب، تو اس میں دو امور ہیں کہ آیا ازواج مطہرات سے مخاطب ہونے کی کوئی حقیقی ضرورت ہے یا نہیں ہے؟اگر بات چیت کرنے کی کوئی حقیقی ضرورت نہیں تو اس کو ترک کرنا ہی ادب ہے۔ اگر کوئی حقیقی ضرورت لاحق ہے، جیسے ان سے کوئی چیز، مثلاً: گھر کے برتن وغیرہ طلب کرنا، تو یہ چیزیں ان سے طلب کی جائیں ﴿مِنْوَّرَآءِحِجَابٍ ﴾”پردہ کے پیچھے سے۔“ یعنی تمھارے درمیان اور ازواج مطہرات کے درمیان ایک پردہ حائل ہو، جو نظر پڑنے سے بچائے کیونکہ دیکھنے کی ضرورت نہیں تو معلوم ہوا ازواج مطہرات کو دیکھنا ہر حال میں ممنوع ہے اور ان سے ہم کلام ہونے میں تفصیل ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے ذکر فرما دیا ہے۔
پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ذٰلِكُمْاَطْهَرُلِقُلُوْبِكُمْوَقُلُوْبِهِنَّ ﴾”یہ تمھارے اور ان کے دلوں کے لیے بہت پاکیزگی کی بات ہے۔“ کیونکہ یہ طریقہ کسی قسم کے شبہے سے بعید تر ہے اور انسان شر کی طرف دعوت دینے والے اسباب سے جتنا دور رہے گا تو یہ چیز اس کے قلب کے لیے اتنی ہی زیادہ سلامتی اور پاکیزگی کا باعث ہو گی۔
بنا بریں اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام شرعی امور کی کثرت سے تفاصیل بیان کی ہیں، نیز یہ بھی واضح کیا ہے کہ برائی کے تمام وسائل، اسباب اور مقدمات ممنوع ہیں اور ہر طریقے سے ان سے دور رہنا مشروع ہے، پھر ایک جامع بات اور ایک عام قاعدہ کلیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿مَاكَانَلَكُمْ ﴾ اے مومنو! تمھارے لائق ہے نہ یہ مستحسن ہے، بلکہ یہ قبیح ترین بات ہے ﴿اَنْتُؤْذُوْارَسُوْلَاللّٰهِ ﴾” کہ تم رسول اللہ کو تکلیف پہنچاؤ۔“ یعنی قول و فعل اور ان سے متعلق تمام امور کے ذریعے سے اذیت پہنچاؤ۔ ﴿وَلَاۤاَنْتَنْكِحُوْۤااَزْوَاجَهٗمِنْۢبَعْدِهٖۤاَبَدًا ﴾”اور نہ (تمھارے لیے یہ حلال ہے کہ)آپ کے بعد کسی وقت بھی آپ کی بیویوں سے نکاح کرو۔“ یہ چیز ان جملہ امور میں داخل ہے جن سے آپ کو اذیت پہنچتی ہے۔ بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعظیم اور رفعت و اکرام کے مقام کے حامل ہیں آپ کے بعد آپ کی ازواج مطہرات سے نکاح کرنا، اس مقام کے منافی ہے، نیز ازواج مطہرات، دنیا وآخرت میں آپ کی بیویاں ہیں، زوجیت کا یہ رشتہ آپ کی وفات کے بعد بھی باقی ہے اس لیے وہ آپ کی امت میں سے کسی کے لیے جائز نہیں۔ ﴿اِنَّذٰلِكُمْكَانَعِنْدَاللّٰهِعَظِیْمًا ﴾”یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا (گناہ کا کام) ہے۔“ امت مسلمہ نے اس حکم کی تعمیل کی اور ان امور سے اجتناب کیا جن سے اللہ تبارک و تعالیٰ نے روکا۔ وَلِلّٰہِالْحَمْدُوَالشُّکْرُ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى عبادَه المؤمنين بالتأدُّب مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في دخول بيوتِهِ، فقال: {يا أيُّها الذين آمنوا لا تدخُلوا بيوت النبيِّ إلاَّ أن يُؤْذَنَ لكم إلى طعام}؛ أي: لا تدخُلوها بغير إذنٍ للدخول فيها لأجل الطعام، وأيضاً لا تكونوا {ناظرينَ إناه}؛ أي: منتظرين ومتأنين لانتظار نضجه أو سعة صدرٍ بعد الفراغ منه. والمعنى: أنكم لا تدخُلوا بيوتَ النبيِّ إلاَّ بشرطين: الإذن لكم بالدخول، وأنْ يكون جلوسُكم بمقدارِ الحاجة، ولهذا قال: {ولكنْ إذا دُعيتُم فادْخُلوا فإذا طَعِمْتُم فانتَشِروا ولا مُسْتَأنِسينَ لحديثٍ}؛ أي: قبل الطعام وبعده.
ثم بيَّن حكمةَ النهي وفائدتَه، فقال: {إنَّ ذلكم}؛ أي: انتظاركم الزائد على الحاجة {كان يؤذي النبيَّ}؛ أي: يتكلَّف منه ويشقُّ عليه حبسُكم إيَّاه عن شؤون بيتِهِ وأشغاله فيه، {فيَسْتَحيي منكم}: أن يقولَ لكم: اخرُجوا! كما هو جاري العادة أن الناس ـ خصوصاً أهل الكرم منهم ـ يَسْتَحْيونَ أن يُخْرِجوا الناس من مساكنهم، {و} لكن {الله لا يَسْتَحْيي من الحقِّ}: فالأمر الشرعيُّ، ولو كان يُتَوَهَّم أنَّ في تركِهِ أدباً وحياءً؛ فإنَّ الحزم كلَّ الحزم اتِّباعُ الأمر الشرعيِّ، وأنْ يجزمَ أنَّ ما خالفه ليس من الأدب في شيءٍ، والله تعالى لا يستحيي أنْ يأمُرَكم بما فيه الخيرُ لكم والرفقُ لرسوله كائناً ما كان.
فهذا أدبُهم في الدخول في بيوته، وأما أدبُهم معه في خطاب زوجاتِهِ؛ فإنَّه: إمَّا أن يحتاجَ إلى ذلك، أو لا يحتاجُ إليه؛ فإن لم يحتج إليه؛ فلا حاجة إليه، والأدب تركُه، وإن احتيج إليه، كأنْ يسألهنَّ متاعاً أو غيره من أواني البيت أو نحوها؛ فإنَّهنَّ يُسْألْنَ {من وراءِ حجابٍ}؛ أي: يكون بينكم وبينهنَّ سترٌ يستر عن النظر؛ لعدم الحاجة إليه، فصار النظر إليهنَّ ممنوعاً بكلِّ حال، وكلامهنَّ فيه التفصيلُ الذي ذكره الله. ثم ذكر حكمةَ ذلك بقوله: {ذلكُم أطهرُ لقلوبكم وقلوبهنَّ}؛ لأنَّه أبعدُ عن الريبة، وكلَّما بَعُدُ الإنسان عن الأسباب الداعيةِ إلى الشرِّ؛ فإنَّه أسلمُ له وأطهرُ لقلبِهِ؛ فلهذا من الأمور الشرعيَّة التي بيَّن الله كثيراً من تفاصيلها أنَّ جميعَ وسائل الشرِّ وأسبابه ومقدِّماته ممنوعةٌ، وأنه مشروعٌ البعد عنها بكلِّ طريق.
ثم قال كلمةً جامعةً وقاعدةً عامةً: {وما كان لكم}: يا معشر المؤمنين؛ أي: غير لائقٍ ولا مستحسنٍ منكم، بل هو أقبحُ شيء، {أن تُؤذوا رسولَ الله}؛ أي: أذيَّة قوليَّة أو فعليَّة بجميع ما يتعلَّق به، {ولا أن تَنكِحوا أزواجَه من بعده أبداً}: هذا من جملة ما يؤذيه؛ فإنَّه - صلى الله عليه وسلم - له مقامُ التعظيم والرفعةِ والإكرام، وتزوُّجُ زوجاتِهِ بعدَه مخلٌّ بهذا المقام، وأيضاً؛ فإنهنَّ زوجاتُه في الدُّنيا والآخرة، والزوجيَّةُ باقيةٌ بعد موته؛ فلذلك لا يحلُّ نكاحُ زوجاتِهِ بعده لأحدٍ من أمته. {إنَّ ذلكم كان عند الله عظيماً}: وقد امتثلتْ هذه الأمة هذا الأمر، واجتنبتْ ما نهى الله عنه منه، ولله الحمد والشكر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔