تیرے لیے اس کے بعد عورتیں حلال نہیں اور نہ یہ کہ تو ان کے بدلے کوئی اور بیویاں کر لے، اگرچہ ان کا حسن تجھے اچھا لگے مگر جس کا مالک تیرا دایاں ہاتھ بنے اور اللہ ہمیشہ سے ہر چیز پر پوری طرح نگران ہے۔
En
(اے پیغمبر) ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے
اس کے بعد اور عورتیں آپ کے لئے حلال نہیں اور نہ یہ (درست ہے) کہ ان کے بدلے اور عورتوں سے (نکاح کرے) اگر چہ ان کی صورت اچھی بھی لگتی ہو مگر جو تیری مملوکہ ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا (پورا) نگہبان ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کی قدر دانی ہے... اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اپنے بندوں کے اعمال کا قدردان ہے... کہ اس نے ان کو اپنے سایۂ رحمت میں لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انھی پر اقتصار وانحصار کرنے کا حکم دیا کیونکہ انھوں نے اللہ کے رسول اور آخرت کو چنا تھا، چنانچہ فرمایا: ﴿لَایَحِلُّلَكَالنِّسَآءُمِنْۢبَعْدُ ﴾”ان کے سوا اور عورتیں آپ کے لیے جائز نہیں۔“ یعنی ان موجودہ ازواج مطہرات کے بعد ﴿وَلَاۤاَنْتَبَدَّلَبِهِنَّمِنْاَزْوَاجٍ ﴾”اور نہ یہ کہ آپ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرلیں۔“ یعنی ان میں سے کسی کو طلاق دے کر، اس کی جگہ کسی اور کو نکاح میں نہ لائیں۔ اس آیت کریمہ کی بنا پر وہ طلاق اور سوکنوں سے محفوظ و مامون ہو گئیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فیصلہ فرما دیا کہ وہ دنیا و آخرت میں آپ کی بیویاں ہیں۔ آپ اور ان کے درمیان کبھی جدائی نہ ہو گی۔
﴿وَّلَوْاَعْجَبَكَحُسْنُهُنَّ ﴾”خواہ ان (کے علاوہ کسی اور) کا حسن آپ کو کتنا ہی اچھا کیوں نہ لگے“ وہ آپ کے لیے حلال نہیں ﴿اِلَّامَامَلَكَتْیَـمِیْنُكَ﴾ یعنی سوائے قیدیوں میں سے جو آپ کی ملکیت میں آجائیں، وہ آپ کے لیے حلال ہیں کیونکہ لونڈیاں، بیویوں کی ناپسندیدگی میں، بیویوں کو نقصان پہنچانے میں، بیویوں کے مقام پر نہیں۔
﴿وَكَانَاللّٰهُعَلٰىكُ٘لِّشَیْءٍرَّقِیْبًا ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ تمام امور کا نگہبان ہے اور ان تمام امور کو جانتا ہے جو اس کی طرف لوٹتے ہیں۔ وہ کامل ترین نظام اور بہترین احکام کے ساتھ ان کی تدبیر کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا شكرٌ من الله الذي لم يزل شكوراً لزوجاتِ رسولِهِ رضي الله عنهنَّ، حيث اخترنَ الله ورسولَه والدارَ الآخرة؛ أنْ رَحِمَهُنَّ وقَصَرَ رسولَه عليهنَّ، فقال: {لا يحلُّ لك النساءُ من بعدُ}: زوجاتك الموجودات، {ولا أن تَبَدَّلَ بهنَّ من أزواج}؛ أي: ولا أن تطلِّقَ بعضهنَّ فتأخُذَ بَدَلَها، فحصل بهذا أمنهنَّ من الضرائر ومن الطلاق؛ لأنَّ الله قضى أنهنَّ زوجاتُه في الدنيا والآخرة، لا يكون بينه وبينهنَّ فرقة، {ولو أعجبك حسنهنَّ}؛ أي: حسن غيرهنَّ؛ فلا يَحْلُلْنَ لك، {إلاَّ ما ملكتْ يمينُك}؛ أي: السراري؛ فذلك جائزٌ لك؛ لأنَّ المملوكات في كراهة الزوجات لَسْنَ بمنزلة الزوجات في الإضرار للزوجات. {وكان الله على كل شيءٍ رَقيباً}؛ أي: مراقباً للأمور وعالماً بما إليه تؤول وقائماً بتدبيرها على أكمل نظام وأحسن إحكام.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔