تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 43

ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمۡ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ لِیُخۡرِجَکُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ ؕ وَ کَانَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَحِیۡمًا ﴿۴۳﴾
وہی ہے جو تم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے، تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لائے اور وہ ایمان والوں پر ہمیشہ سے نہایت مہربان ہے۔ En
وہی تو ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی۔ تاکہ تم کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے۔ اور خدا مومنوں پر مہربان ہے
En
وہی ہے جو تم پر اپنی رحمتیں بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے (تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں) تاکہ وه تمہیں اندھیروں سے اجالے کی طرف لے جائے اور اللہ تعالیٰ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَمَلٰٓىِٕكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا وہی ہے جو تم پر رحمت نازل فرماتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمھارے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں تاکہ وہ تمھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جائے اور اللہ مومنوں پر بہت ہی مہربان ہے۔ یعنی اہل ایمان پر یہ اس کی بے پایاں رحمت اور لطف و کرم ہے کہ اس نے ان کو اپنی برکت، اپنی مدح و ثنا اور فرشتوں کی دعاؤ ں سے نوازا جو انھیں گناہوں اور جہالت کے اندھیروں سے نکال کر ایمان، توفیق، علم اور عمل کی روشنی میں لاتی ہیں۔ یہ سب سے بڑی نعمت ہے جس سے اس نے اپنے اطاعت کیش بندوں کو سرفراز فرمایا۔ یہ نعمت ان سے اللہ تعالیٰ کے شکر اور کثرت کے ساتھ اس کے ذکر کا مطالبہ کرتی ہے جس نے ان پر رحم اور لطف و کرم کیا۔ اس کے عرش عظیم کو اٹھانے والے اور اس کے اردگرد موجود افضل ترین فرشتے اپنے رب کی تحمید کے ساتھ اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں اور اہل ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہوئے دعا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ﴿رَبَّنَا وَسِعْتَ كُ٘لَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْ٘فِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ۰۰ رَبَّنَا وَاَدْخِلْهُمْ جَنّٰتِ عَدْنِنِ الَّتِیْ وَعَدْتَّهُمْ وَمَنْ صَلَ٘حَ مِنْ اٰبَآىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّیّٰتِهِمْ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ الْ٘عَزِیْزُ الْحَكِیْمُۙ۰۰ وَقِهِمُ السَّیِّاٰتِ١ؕ وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَىِٕذٍ فَقَدْ رَحِمْتَهٗ١ؕ وَذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (المؤمن:40؍7-9) اے ہمارے رب! تو نے اپنی رحمت اور علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کر رکھا ہے، پس تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے کی پیروی کی اور انھیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔ اے ہمارے رب! تو داخل کر ان کو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں، جن کا تو نے ان کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے اور ان کے والدین، بیویوں اور اولاد میں سے ان لوگوں کو بھی (ان جنتوں میں داخل کر) جو نیک ہیں۔ بے شک تو غالب اور حکمت والا ہے اور تو ان کو برائیوں سے بچا اور جس کو تو نے اس روز برائیوں سے بچا دیا، تو تُو نے اس پر رحم کیا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ ان پر اللہ تعالیٰ کی یہ رحمت اور نعمت دنیا میں ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{هو الذي يصلِّي عليكُم وملائكتُه ليخرِجَكم من الظلماتِ إلى النور وكان بالمؤمنين رحيماً}؛ أي: من رحمته بالمؤمنين ولطفه بهم أنْ جَعَلَ من صلاتِهِ عليهم وثنائِهِ وصلاةِ ملائكته ودعائهم ما يخرِجُهم من ظلمات الذُّنوب والجهل إلى نورِ الإيمان والتوفيق والعلم والعمل؛ فهذه أعظمُ نعمةٍ أنعم بها على العباد الطائعين، تستدعي منهم شكرها والإكثار من ذكر الله الذي لطف بهم ورحمهم وجعل حملةَ عرشهِ أفضل الملائكة ومن حوله يسبِّحون بحمدِ ربِّهم، ويستغفرونَ للذين آمنوا، فيقولون: {ربَّنا وسعتَ كلَّ شيءٍ رحمةً وعلماً فاغفر للذين تابوا واتَّبَعوا سبيلَكَ وقِهِمْ عذابَ الجحيم. ربَّنا وأدْخِلْهم جناتِ عدنٍ التي وَعَدْتَهم ومَن صَلَحَ من آبائهم وأزواجهم وذُرِّيَّاتِهِم إنَّك أنت العزيزُ الحكيم. وقِهِمُ السيئاتِ ومَن تَقِ السيئاتِ يومئذٍ فقد رَحِمْتَه وذلك الفوزُ العظيم}: فهذه رحمتُه ونعمتُه عليهم في الدُّنيا.