تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ فرشتوں کی صلاۃ سے مراد مسلمانوں کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا ہے۔ اس کی دلیل ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّ الْمَلاَئِكَةَ تُصَلِّيْ عَلٰی أَحَدِكُمْ مَا دَامَ فِيْ مُصَلاَّهُ مَا لَمْ يُحْدِثْ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ، لَا يَزَالُ أَحَدُكُمْ فِيْ صَلاَةٍ مَا دَامَتِ الصَّلاَةُ تَحْبِسُهُ، لَا يَمْنَعُهُ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلٰی أَهْلِهِ إِلاَّ الصَّلَاةُ] [بخاري، الأذان، باب من جلس في المسجد ینتظر الصلاۃ…: ۶۵۹] ”یقینا فرشتے تم میں سے ہر اس شخص کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں جو اپنی نماز کی جگہ میں رہے، جب تک وہ بے وضو نہ ہو کہ اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔ جب تک نماز نے اسے گھر جانے سے روک رکھا ہو، نماز کے سوا اسے کوئی چیز مانع نہ ہو۔“ سورۂ مومن کی آیات (۷ تا ۹) میں بھی فرشتوں کی اس دعا کا ذکر ہے جو وہ مومنوں کے لیے کرتے ہیں۔
➌ اس آیت کا پچھلی آیت سے تعلق دو طرح سے ہے، ایک تو یہ کہ پچھلی آیت میں اللہ کا ذکر کثرت کے ساتھ کرنے کا حکم دیا، اس آیت میں اس کا نتیجہ بیان فرمایا کہ جب تم اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو گے تو وہ فرشتوں کے سامنے تمھارا ذکر خیر کرے گا، لوگوں میں تمھاری اچھی شہرت فرمائے گا، تم پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے گا اور اس کے فرشتے تمھارے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کریں گے۔ اس رحمت و مغفرت کے ذریعے سے دنیا میں وہ تمھیں جہالت اور نافرمانی کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان اور علم و عمل کی روشنی میں لے آئے گا۔ اور قیامت کے دن عطا ہونے والی نعمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: [أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِيْ بِيْ، وَ أَنَا مَعَهُ إِذَا ذَكَرَنِيْ، فَإِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِيْ نَفْسِيْ، وَ إِنْ ذَكَرَنِيْ فِيْ مَلَأٍ ذَكَرْتُهُ فِيْ مَلَأٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَ إِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَ إِنْ أَتَانِيْ يَمْشِيْ أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً] [بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «و یحذرکم اللہ نفسہ …» : ۷۴۰۵] ”میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے متعلق رکھتا ہے اور میں اس کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرے، سو اگر وہ مجھے اپنے نفس میں یاد کرے تو میں اسے اپنے نفس میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے کسی جماعت میں یاد کرے تو میں اسے اس سے بہتر جماعت میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہو تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہو تو میں دونوں ہاتھ پھیلانے کے برابر اس کے قریب ہوتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا میری طرف آئے تو میں دوڑ کر اس کی طرف آتا ہوں۔“
دوسری طرح اس کا پہلی آیات سے تعلق یہ ہے کہ اس آیت میں ذکر کثیر اور صبح و شام تسبیح کا حکم دینے کی وجہ بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جو تمھارے کسی استحقاق کے بغیر محض اپنی بے پایاں رحمت کی وجہ سے تم پر صلاۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے تمھارے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کرتے ہیں، تاکہ وہ تمھیں دنیا میں اندھیروں سے روشنی میں لائے اور آخرت میں اجر کریم عطا کرے۔ سو تم پر لازم ہے کہ ایسے مہربان رب کا ذکر کثیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرو۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا: «كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِيْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِنَا وَ يُزَكِّيْكُمْ وَ يُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ (151) فَاذْكُرُوْنِيْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِيْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ» [البقرۃ: ۱۵۱، ۱۵۲] ”جس طرح ہم نے تم میں ایک رسول تمھی سے بھیجا ہے، جو تم پر ہماری آیات پڑھتا اور تمھیں پاک کرتا اور تمھیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور تمھیں وہ کچھ سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔ سو تم مجھے یاد کرو، میں تمھیں یاد کروں گا اور میرا شکر کرو اور میری ناشکری مت کرو۔“ یعنی ہمارے رسول بھیجنے کی نعمت کا تقاضا یہ ہے کہ تم میرا ذکر کرو اور میرا شکر کرو۔
➍ {وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا:} یعنی ان تمام مہربانیوں کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے ایمان والوں پر بے حد رحم کرنے والا ہے۔ ہمیشہ کا مفہوم {” كَانَ “} کا لفظ ادا کر رہا ہے۔ دنیا میں اس کی رحمت دوسری نعمتوں کے ساتھ انھیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لانا ہے اور آخر ت میں اس کی رحمت کا ذکر اگلی آیت میں ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[70] یعنی اللہ تعالیٰ کو بکثرت یاد کرنے کے نتیجہ میں اللہ تم پر اپنی رحمت فرماتا ہے اور یہ رحمت فرشتوں کے توسط سے نازل ہوتی ہے اور یہ اللہ کی رحمت ہی کا نتیجہ ہے کہ تمہیں کفر کی جہالتوں سے چھٹکارا حاصل ہوا اور علم اور ایمان کی روشنی اور دولت نصیب ہوئی اور اس میں ہر آن اضافہ بھی ہوتا رہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{هو الذي يصلِّي عليكُم وملائكتُه ليخرِجَكم من الظلماتِ إلى النور وكان بالمؤمنين رحيماً}؛ أي: من رحمته بالمؤمنين ولطفه بهم أنْ جَعَلَ من صلاتِهِ عليهم وثنائِهِ وصلاةِ ملائكته ودعائهم ما يخرِجُهم من ظلمات الذُّنوب والجهل إلى نورِ الإيمان والتوفيق والعلم والعمل؛ فهذه أعظمُ نعمةٍ أنعم بها على العباد الطائعين، تستدعي منهم شكرها والإكثار من ذكر الله الذي لطف بهم ورحمهم وجعل حملةَ عرشهِ أفضل الملائكة ومن حوله يسبِّحون بحمدِ ربِّهم، ويستغفرونَ للذين آمنوا، فيقولون: {ربَّنا وسعتَ كلَّ شيءٍ رحمةً وعلماً فاغفر للذين تابوا واتَّبَعوا سبيلَكَ وقِهِمْ عذابَ الجحيم. ربَّنا وأدْخِلْهم جناتِ عدنٍ التي وَعَدْتَهم ومَن صَلَحَ من آبائهم وأزواجهم وذُرِّيَّاتِهِم إنَّك أنت العزيزُ الحكيم. وقِهِمُ السيئاتِ ومَن تَقِ السيئاتِ يومئذٍ فقد رَحِمْتَه وذلك الفوزُ العظيم}: فهذه رحمتُه ونعمتُه عليهم في الدُّنيا.