تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 44

تَحِیَّتُہُمۡ یَوۡمَ یَلۡقَوۡنَہٗ سَلٰمٌ ۖۚ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ اَجۡرًا کَرِیۡمًا ﴿۴۴﴾
ان کی دعا، جس دن وہ اس سے ملیں گے، سلام ہو گی اور اس نے ان کے لیے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے۔ En
جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ (خدا کی طرف سے) سلام ہوگا اور اس نے ان کے لئے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے
En
جس دن یہ (اللہ سے) ملاقات کریں گے ان کا تحفہ سلام ہوگا، ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان پر آخرت میں جو رحمت ہو گی وہ جلیل ترین رحمت اور افضل ترین ثواب ہے اور یہ ہے اپنے رب کی رضا کے حصول میں فوزیاب ہونا، ان کے رب کی طرف سے سلام، اس کے کلام جلیل کا سماع، اس کے چہرۂ مبارک کا دیدار اور بہت بڑے اجر کا حصول جس کو کوئی جان سکتا ہے نہ اس کی حقیقی معرفت حاصل کر سکتا ہے، سوائے ان لوگوں کے جن کو وہ خود عطا کر دے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْ٘قَوْنَهٗ سَلٰ٘مٌ١ۚ ۖ وَاَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا جس روز وہ اس سے ملیں گے ان کا تحفہ سلام ہو گا اور اس نے ان کے لیے اجرِ کریم تیار کر رکھا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وأما رحمتُه بهم في الآخرة؛ فأجلُّ رحمة وأفضلُ ثواب، وهو الفوز برضا ربِّهم وتحيَّته، واستماع كلامه الجليل، ورؤية وجهِهِ الجميل، وحصول الأجر الكبير الذي لا يدريه ولا يعرِفُ كُنْهَهُ إلاَّ من أعطاهم إياه، ولهذا قال: {تحيَّتُهم يوم يَلْقَوْنَه سلامٌ وأعدَّ لهم أجراً كريماً}.