تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 21

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا ﴿ؕ۲۱﴾
بلاشبہ یقینا تمھارے لیے اللہ کے رسول میں ہمیشہ سے اچھا نمونہ ہے، اس کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرتا ہو۔ En
تم کو پیغمبر خدا کی پیروی (کرنی) بہتر ہے (یعنی) اس شخص کو جسے خدا (سے ملنے) اور روز قیامت (کے آنے) کی اُمید ہو اور وہ خدا کا ذکر کثرت سے کرتا ہو
En
یقیناً تمہارے لئے رسول اللہ میں عمده نمونہ (موجود) ہے، ہر اس شخص کے لئے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے اور بکثرت اللہ تعالیٰ کی یاد کرتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ یقیناً تمھارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس جنگ میں شریک ہوئے، جنگی معرکوں میں حصہ لیا، آپ صاحب شرف و کمال، بطل جلیل اور صاحب شجاعت و بسالت تھے تب تم ایسے معاملے میں شریک ہونے میں بخل سے کام لیتے ہو جس میں رسول مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بنفس نفیس شریک ہیں۔ پس اس معاملے میں اور دیگر معاملات میں آپ کی پیروی کرو۔ اس آیت کریمہ سے اہل اصول نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال کے حجت ہونے پر استدلال کیا ہے۔ اصول یہ ہے کہ احکام میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حجت ہے، جب تک کسی حکم پر دلیل شرعی قائم نہ ہو جائے کہ یہ صرف آپ کے لیے مخصوص ہے۔
اسوہ کی دو اقسام ہیں: اسوۂ حسنہ اور اسوۂ سیئہ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اسوۂ حسنہ ہے۔ آپ کے اسوہ کی اقتدا کرنے والا اس راستے پر گامزن ہے جو اللہ تعالیٰ کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے اور وہ ہے صراط مستقیم۔ رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی دیگر ہستی کا اسوہ، تو اس صورت میں اگر وہ آپ کے اسوہ کے خلاف ہے تو یہ أسوۃ سیئۃ ہے، مثلاً: جب انبیاء ورسل مشرکین کو اپنے اسوہ کی پیروی کی دعوت دیتے تو وہ جواب میں کہتے: ﴿ اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّاِنَّا عَلٰۤى اٰثٰ٘رِهِمْ مُّقْتَدُوْنَ (الزخرف:43؍23) بلاشبہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک طریقہ پر پایا ہے، ہم انھی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں۔ اسوۂ حسنہ کی صرف وہی لوگ پیروی کرتے ہیں جن کو اس کی توفیق بخشی گئی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات اور یوم آخرت کی امید رکھتے ہیں کیونکہ ان کا سرمایۂ ایمان، اللہ تعالیٰ کا خوف، اس کے ثواب کی امید اور اس کے عذاب کا ڈر انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لقد كان لكم في رسول الله أسوةٌ حسنةٌ}: حيث حَضَرَ الهيجاءَ بنفسه الكريمة، وباشرَ موقفَ الحرب وهو الشريفُ الكاملُ والبطل الباسلُ، فكيف تشحُّون بأنفسكم عن أمرٍ جادَ رسولُ الله - صلى الله عليه وسلم - بنفسه فيه، فتأسَّوْا به في هذا الأمر وغيره.

واستدَّل الأصوليُّون في هذه الآية على الاحتجاج بأفعال الرسول - صلى الله عليه وسلم -، وأنَّ الأصل أنَّ أمَّتَه أسوتُه في الأحكام؛ إلاَّ ما دلَّ الدليل الشرعيُّ على الاختصاص به؛ فالأسوةُ نوعان: أسوةٌ حسنةٌ وأسوةٌ سيئةٌ، فالأسوةُ الحسنةُ في الرسول - صلى الله عليه وسلم -؛ فإنَّ المتأسِّي به سالكٌ الطريق الموصل إلى كرامة الله، وهو الصراط المستقيم، وأمَّا الأسوة بغيره إذا خالَفَه؛ فهو الأسوة السيئة؛ كقول المشركين حين دعتهم الرسل للتأسِّي بهم: {إنَّا وَجَدْنا آباءنا على أمَّةٍ وإنَّا على آثارِهِم مهتدونَ}: وهذه الأسوةُ الحسنةُ إنَّما يسلُكُها ويوفَّقُ لها مَنْ كان يرجو الله واليوم الآخر؛ فإنَّ ذلك ما معه من الإيمانِ وخوفِ الله ورجاء ثوابِهِ وخوفِ عقابِهِ يحثُّه على التأسِّي بالرسول - صلى الله عليه وسلم -.