تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأحزاب (33) — آیت 22

وَ لَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا ہٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ صَدَقَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ ۫ وَ مَا زَادَہُمۡ اِلَّاۤ اِیۡمَانًا وَّ تَسۡلِیۡمًا ﴿ؕ۲۲﴾
اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا تو انھوں نے کہا یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اوراس کے رسول نے سچ کہا، اور اس چیز نے ان کو ایمان اور فرماں برداری ہی میں زیادہ کیا۔ En
اور جب مومنوں نے (کافروں کے) لشکر کو دیکھا تو کہنے لگے یہ وہی ہے جس کا خدا اور اس کے پیغمبر نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور خدا اور اس کے پیغمبر نے سچ کہا تھا۔ اور اس سے ان کا ایمان اور اطاعت اور زیادہ ہوگئی
En
اور ایمان والوں نے جب (کفار کے) لشکروں کو دیکھا (بے ساختہ) کہہ اٹھے! کہ انہیں کا وعده ہمیں اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول نے دیا تھا اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا، اور اس (چیز) نے ان کے ایمان میں اور شیوہٴ فرماں برداری میں اور اضافہ کر دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ بیان کرنے کے بعد کہ خوف کے وقت منافقین کی کیا حالت ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا حال بیان کیا، چنانچہ فرمایا: ﴿وَلَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ اور جب مومنوں نے لشکروں کو دیکھا جو جنگ کے لیے جمع ہوئے اور وہ اپنے اپنے محاذ پر نازل ہوئے تھے تو (مومنوں کا) خوف جاتا رہا۔ ﴿قَالُوْا هٰؔذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ وہ کہنے لگے:یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے اس ارشاد میں جو وعدہ فرمایا ہے: ﴿اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّؔا یَاْتِكُمْ مَّثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ١ؕ مَسَّتْهُمُ الْبَاْسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلْ٘زِلُوْا حَتّٰى یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ مَتٰى نَصْرُ اللّٰهِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ نَصْرَ اللّٰهِ قَ٘رِیْبٌ (البقرۃ:2؍214) کیا تم نے سمجھ لیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے حالانکہ تم پر وہ آزمائشیں تو آئی ہی نہیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئی تھیں، ان پر بڑی بڑی سختیاں اور تکلیفیں آئیں اور انھیں ہلا ڈالا گیا حتی کہ رسول اور وہ لوگ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے: اللہ کی مدد کب آئے گی؟ دیکھو اللہ کی مدد بہت قریب ہے۔ ﴿وَصَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗ اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا کیونکہ ہم وہ سب کچھ دیکھ چکے ہیں جس کی ہمیں خبر دی گئی تھی ﴿وَمَا زَادَهُمْ اور نہیں زیادہ کیاان کو یعنی اس معاملے نے ﴿اِلَّاۤ اِیْمَانًا مگر ایمان میں یعنی ان کے دلوں میں ایمان زیادہ ہوگیا۔ ﴿وَّتَسْلِیْمًا اور ماننے میں یعنی ان کے جوارح میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کا اضافہ کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذكر حالة المنافقين عند الخوفِ؛ ذكر حالَ المؤمنين فقال: {ولمَّا رأى المؤمنون الأحزابَ}: الذين تحزَّبوا ونزلوا منازِلَهم وانتهى الخوفُ، {قالوا هذا ما وَعَدَنا اللهُ ورسولُه}: في قوله: {أم حسبتُم أن تدخُلوا الجنَّةَ ولما يأتِكُم مَثَلُ الذين خَلَوْا من قبلِكم مسَّتْهم البأساءُ والضَّراءُ وزلزلوا حتى يقولَ الرسول والذين آمنوا معه متى نصرُ الله ألا إنَّ نصر الله قريبٌ}، {وصَدَقَ اللهُ ورسولُه}: فإنا رأينا ما أَخَبَرَنا به، {وما زادَهُم}: ذلك الأمر {إلاَّ إيماناً}: في قلوبهم، {وتسليماً}: في جوارحهم، وانقياداً لأمر الله.