وہ لشکروں کو سمجھتے ہیں کہ نہیں گئے اور اگر لشکر آجائیں تو وہ پسند کریں گے کاش! واقعی وہ بدویوں میں باہر نکلے ہوئے ہوتے، تمھاری خبریں پوچھتے رہتے اور اگر وہ تم میں موجود ہوتے تو نہ لڑتے مگر بہت کم۔
En
(خوف کے سبب) خیال کرتے ہیں کہ فوجیں نہیں گئیں۔ اور اگر لشکر آجائیں تو تمنا کریں کہ (کاش) گنواروں میں جا رہیں (اور) تمہاری خبر پوچھا کریں۔ اور اگر تمہارے درمیان ہوں تو لڑائی نہ کریں مگر کم
سمجھتے ہیں کہ اب تک لشکر چلے نہیں گئے، اور اگر فوجیں آجائیں تو تمنائیں کرتے ہیں کہ کاش! وه صحرا میں بادیہ نشینوں کے ساتھ ہوتے کہ تمہاری خبریں دریافت کیا کرتے، اگر وه تم میں موجود ہوتے (تو بھی کیا؟) نہ لڑتے مگر برائے نام
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یَحْسَبُوْنَالْاَحْزَابَلَمْیَذْهَبُوْا ﴾ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ حملہ آور جتھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے خلاف جنگ کرنے کے لیے اکٹھے ہو کر آئے ہیں کہ وہ ان کا استیصال کیے بغیر واپس نہیں جائیں گے، مگر ان کی تمنائیں ناکام اور ان کے اندازے غلط ہو گئے۔ ﴿وَاِنْیَّاْتِالْاَحْزَابُ ﴾ اگر دوبارہ حملہ آور دشمن کے جتھے چڑھ دوڑیں ﴿یَوَدُّوْالَوْاَنَّهُمْبَ٘ادُوْنَفِیالْاَعْرَابِیَسْاَلُوْنَعَنْاَنْۢبـَآىِٕكُمْ۠﴾ یعنی اگر دوسری مرتبہ فوجیں حملہ آور ہوں جیسے اس مرتبہ حملہ آور ہوئی تھیں تو یہ منافقین چاہتے ہیں کہ وہ اس وقت مدینہ کے اندر یا اس کے قرب وجوار میں نہ ہوں بلکہ وہ صحرا میں بدویوں کے ساتھ رہ رہے ہوں اور تمھاری خبرمعلوم کر رہے ہوں اور تمھارے بارے میں پوچھ رہے ہوں کہ تم پر کیا گزری؟ پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور دوری ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے، وہ ان لوگوں میں سے نہیں جن کی موجودگی بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ ﴿وَلَوْكَانُوْافِیْكُمْمَّاقٰتَلُوْۤااِلَّاقَلِیْلًا﴾”اور اگر وہ تمھارے درمیان ہوں تو بہت کم لڑائی کریں۔“ اس لیے ان کی پروا کرو نہ ان پر افسوس کرو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يحسبون الأحزابَ لم يذهبوا}؛ أي: يظنُّون أنَّ هؤلاء الأحزاب الذين تحزَّبوا على حرب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأصحابِهِ لم يَذْهَبوا حتى يستأصِلوهم، فخاب ظنُّهم، وبطل حسبانهم. {وإن يأتِ الأحزابُ}: مرةً أخرى، {يودُّوا لو أنَّهم بادون في الأعراب يسألونَ عن أنبائِكُم}؛ أي: لو أتى الأحزابُ مرة ثانية مثل هذه المرة؛ ودَّ هؤلاء المنافقون أنهم ليسوا في المدينة، ولا في القربِ منها، وأنهم مع الأعرابِ في البادية، يستخبرون عن أخباركم، ويسألون عن أنبائكم ماذا حَصَلَ عليكم؛ فتبًّا لهم وبعداً؛ فليسوا ممن يُغالى بحضورهم، فلو {كانوا فيكم ما قاتلوا إلاَّ قليلا}: فلا تبالوهم، ولا تأسَوْا عليهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔