تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 9

ثُمَّ سَوّٰىہُ وَ نَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۹﴾
پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔ En
پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو
En
جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ سَوّٰىهُ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَ٘فَ٘خَ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالْاَفْـِٕدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم سوَّاه} بلحمِهِ وأعضائِهِ وأعصابه وعروقِهِ، وأحسن خِلْقَتَه، ووضع كلَّ عضو منه بالمحلِّ الذي لا يليقُ به غيره، {ونفخ فيه من روحِهِ}: بأن أرسل إليه المَلَكَ؛ فينفخ فيه الروحَ، فيعود بإذن الله حيواناً بعد أن كان جماداً، {وجَعَلَ لكم السمعَ والأبصارَ}؛ أي: ما زال يعطيكم من المنافع شيئاً فشيئاً حتى أعطاكم السمع والأبصار {والأفئدة قليلاً ما تشكُرون}: الذي خلقكم، وصوَّركم.