تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ثُمَّسَوّٰىهُ ﴾ پھر اس کا گوشت پوست، اس کے اعضاء، اس کے اعصاب اور اس کی شریانوں کے نظام کو درست طور پر بنایا، اسے بہترین تخلیق وہیئت سے سرفراز کیا اس کے ہر ہر عضو کو ایسے مقام پر رکھا جس کے سوا کوئی اور مقام اس کے لائق نہ تھا۔ ﴿وَنَ٘فَ٘خَفِیْهِمِنْرُّوْحِهٖ﴾”اور اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اس کی طرف فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کے اندر روح پھونکتا ہے تب وہ جمادات کی شکل سے نکل کر، زندگی سے بہرہ ور انسان بن جاتا ہے۔ ﴿وَجَعَلَلَكُمُالسَّمْعَوَالْاَبْصَارَ﴾ اور وہ تمھیں آہستہ آہستہ تمام منفعتیں عطا کرتا رہا حتیٰ کہ تمھیں سماعت و بصارت کی مکمل صلاحیتوں سے نواز دیا ﴿وَالْاَفْـِٕدَةَ١ؕقَلِیْلًامَّاتَشْكُرُوْنَ ﴾”اور دل (بنائے) مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو“ اس ہستی کا جس نے تمھیں پیدا کیا اور تمھاری صورت گری کی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم سوَّاه} بلحمِهِ وأعضائِهِ وأعصابه وعروقِهِ، وأحسن خِلْقَتَه، ووضع كلَّ عضو منه بالمحلِّ الذي لا يليقُ به غيره، {ونفخ فيه من روحِهِ}: بأن أرسل إليه المَلَكَ؛ فينفخ فيه الروحَ، فيعود بإذن الله حيواناً بعد أن كان جماداً، {وجَعَلَ لكم السمعَ والأبصارَ}؛ أي: ما زال يعطيكم من المنافع شيئاً فشيئاً حتى أعطاكم السمع والأبصار {والأفئدة قليلاً ما تشكُرون}: الذي خلقكم، وصوَّركم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔