تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 8

ثُمَّ جَعَلَ نَسۡلَہٗ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ مَّآءٍ مَّہِیۡنٍ ۚ﴿۸﴾
پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی کے خلاصے سے بنائی۔ En
پھر اس کی نسل خلاصے سے (یعنی) حقیر پانی سے پیدا کی
En
پھر اس کی نسل ایک بے وقعت پانی کے نچوڑ سے چلائی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ پھر کیا اس کی نسل کو یعنی ذریت آدم کی پیدائش کو ﴿مِّنْ مَّآءٍ مَّهِیْنٍ گندے اور کمزور نطفہ سے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ثم جعل نَسْلَه}؛ أي: ذريَّة آدم ناشئة {من ماء مَهين}: وهو النطفةُ المستقذرةُ الضعيفة.