تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 10

وَ قَالُوۡۤا ءَ اِذَا ضَلَلۡنَا فِی الۡاَرۡضِ ءَ اِنَّا لَفِیۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ۬ؕ بَلۡ ہُمۡ بِلِقَآیِٔ رَبِّہِمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۰﴾
اور انھوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں گم ہو گئے، کیا واقعی ہم ضرور نئی پیدائش میں ہوں گے؟ بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے منکر ہیں۔ En
اور کہنے لگے کہ جب ہم زمین میں ملیامیٹ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے پروردگار کے سامنے جانے ہی کے قائل نہیں
En
انہوں نے کہا کیا جب ہم زمین میں مل جائیں گے کیا پھر نئی پیدائش میں آجائیں گے؟ بلکہ (بات یہ ہے) کہ وه لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کے منکر ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

قیامت کو بعید سمجھتے ہوئے اس کی تکذیب کرنے والوں نے کہا: ﴿ءَاِذَا ضَلَلْنَا فِی الْاَرْضِ جب ہم بوسیدہ اور ریزہ ریزہ ہو کر ایسی ایسی جگہوں میں بکھر جائیں گے جن کے بارے میں کچھ علم نہیں ہو گا۔ ﴿ءَاِنَّا لَ٘فِیْ خَلْ٘قٍ جَدِیْدٍ تو کیا ہمیں نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا۔ ان کے خیال میں یہ بعید ترین چیز ہے اور ایسا خیال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالق کائنات کی قدرت کو اپنی قدرت پر قیاس کرتے ہیں اور ان کا یہ کلام تلاش حقیقت کی خاطر نہیں، بلکہ یہ تو ظلم، عناد، اپنے رب کی ملاقات سے انکار اور کفر پر مبنی ہے۔ بنا بریں فرمایا: ﴿بَلْ هُمْ بِلِقَآئِ رَبِّهِمْ كٰفِرُوْنَ بلکہ وہ اپنے رب کی ملاقات سے انکار کرتے ہیں۔ ان کے کلام ہی سے ان کی غرض و غایت معلوم ہو جاتی ہے ورنہ اگر ان کا مقصد بیان حق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کے سامنے ایسے قطعی دلائل بیان کرتا جو بصیرت کے لیے اتنے ہی نمایاں ہوتے جتنا بصارت کے لیے سورج۔ ان کے لیے یہی جان لینا کافی ہے کہ ان کو عدم سے وجود میں لایا گیا۔ ابتدا کی نسبت اس کا اعادہ آسان تر ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردہ زمین پر بارش برساتا ہے، زمین اپنی موت کے بعد جی اٹھتی ہے اور اپنے اندر بکھرے ہوئے بیجوں کو اگاتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: قال المكذِّبون بالبعثِ على وجه الاستبعاد: {أإذا ضلَلْنا في الأرض}؛ أي: بَلينا وتمزَّقْنا وتفرَّقْنا في المواضع التي لا تعلم، {أإنَّا لَفي خلقٍ جديدٍ}؛ أي: لمبعوثون بعثاً جديداً؛ بزعمهم أن هذا من أبعد الأشياء! وذلك بقياسهم قدرة الخالق على قُدَرِهِم ، وكلامهم هذا ليس لطلب الحقيقة، وإنَّما هو ظلمٌ وعنادٌ وكفرٌ بلقاء ربهم وجحدٌ، ولهذا قال: {بل هم بلقاءِ ربِّهم كافرونَ}: فكلامُهم عُلِمَ مصدرُهُ وغايتُهُ، وإلاَّ؛ فلو كان قصدُهم بيان الحق لبُيِّنَ لهم من الأدلَّة القاطعة على ذلك ما يجعله مشاهداً للبصيرة بمنزلة الشمس للبصر، ويكفيهم أنهم عندهم علمٌ أنهم قد ابتُدِئوا من العدم؛ فالإعادةُ أسهلُ من الابتداء، وكذلك الأرضُ الميتة ينزِلُ الله عليها المطرَ فتحيا بعد موتها، وينبتُ به متفرِّقُ بذورها.