ثُمَّ سَوّٰىہُ وَ نَفَخَ فِیۡہِ مِنۡ رُّوۡحِہٖ وَ جَعَلَ لَکُمُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ الۡاَفۡـِٕدَۃَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۹﴾
پھر اسے درست کیا اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی اور تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے۔ تم بہت کم شکر کرتے ہو۔
En
پھر اُس کو درست کیا پھر اس میں اپنی (طرف سے) روح پھونکی اور تمہارے کان اور آنکھیں اور دل بنائے مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو
En
جسے ٹھیک ٹھاک کر کے اس میں اپنی روح پھونکی، اسی نے تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے (اس پر بھی) تم بہت ہی تھوڑا احسان مانتے ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 9) ➊ { ثُمَّ سَوّٰىهُ: ”سَوّٰي يُسَوِّيْ تَسْوِيَةً“} برابر کرنا، درست کرنا۔ پھر اس انتہائی چھوٹے سے جرثومے کو ماں کے رحم میں پیوست کیا اور علقہ اور مضغہ کی منزلوں سے بڑھاتے ہوئے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کر، اسے گوشت پوست پہنا کر، ہر عضو کو اس کی بہتر سے بہتر جگہ رکھ کر ہر طرح سے درست اور مکمل کر دیا۔
➋ {وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ: ” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی۔“ مراد اس سے اپنی پیدا کردہ روح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو {” لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ “} ہے، انسان کا شرف بیان کرنے کے لیے اس میں پھونکی جانے والی روح کو اپنی روح قرار دیا۔ کیونکہ ارواح جتنی بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، مگر انسان کی خصوصیت کے اظہار کے لیے اس کی روح کی نسبت اپنی طرف فرمائی، جیسا کہ تمام اونٹنیوں کا مالک اللہ ہے مگر صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو {”نَاقَةُ اللّٰهِ“} فرمایا، تمام مساجد اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں، مگر کعبہ کو ”بیت اللہ“ کہا جاتا ہے اور بندے سب کے سب اللہ کے ہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص شرف کے اظہار کے لیے فرمایا: «{ سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ }» [بني إسرائیل: ۱] اور فرمایا: «{ وَ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ }» [الجن: ۱۹] اور دوسرے مقامات پر انھیں اپنا بندہ قرار دیا۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۲۹) کی تفسیر۔
➌ { وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ:} اس سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا، روح پھونکنے سے جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تم پیدا ہوئے تو کچھ نہ جانتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمھیں علم حاصل کرنے کے ذرائع عطا فرمائے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَيْـًٔا وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ }» [النحل: ۷۸] ”اور اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے، تاکہ تم شکر کرو۔“ علم حاصل کرنے کے ذرائع میں سب سے پہلے سننے کی نعمت کا ذکر فرمایا، کیونکہ پیدا ہونے کے بعد سب سے پہلے کان ہی اپنا کام شروع کرتے ہیں، اس کے بعد آنکھیں اپنا کام شروع کرتی ہیں، اور اس لیے بھی کانوں کا ذکر پہلے فرمایا کہ کانوں پر کوئی پردہ نہیں، وہ ہر وقت اپنا کام سرانجام دیتے ہیں، حتیٰ کہ سونے کی حالت میں بھی سخت آواز جگانے کا باعث ہوتی ہے، جب کہ آنکھیں بند کر لینے سے یا سوجانے سے دیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ سوچنے سمجھنے کا عمل ان دونوں کے بعد شروع ہوتا ہے، اس لیے {” الْاَفْـِٕدَةَ “} کا ذکر دونوں کے بعد فرمایا۔
➍ {قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ:} یہ سب باتیں ایسی واضح ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو۔
➋ {وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ: ” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے ”اور اس میں اپنی ایک روح پھونکی۔“ مراد اس سے اپنی پیدا کردہ روح ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو {” لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ “} ہے، انسان کا شرف بیان کرنے کے لیے اس میں پھونکی جانے والی روح کو اپنی روح قرار دیا۔ کیونکہ ارواح جتنی بھی ہیں سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں، مگر انسان کی خصوصیت کے اظہار کے لیے اس کی روح کی نسبت اپنی طرف فرمائی، جیسا کہ تمام اونٹنیوں کا مالک اللہ ہے مگر صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو {”نَاقَةُ اللّٰهِ“} فرمایا، تمام مساجد اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں، مگر کعبہ کو ”بیت اللہ“ کہا جاتا ہے اور بندے سب کے سب اللہ کے ہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص شرف کے اظہار کے لیے فرمایا: «{ سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى بِعَبْدِهٖ }» [بني إسرائیل: ۱] اور فرمایا: «{ وَ اَنَّهٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰهِ يَدْعُوْهُ }» [الجن: ۱۹] اور دوسرے مقامات پر انھیں اپنا بندہ قرار دیا۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر کی آیت (۲۹) کی تفسیر۔
➌ { وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ:} اس سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ کیا، روح پھونکنے سے جیتا جاگتا انسان وجود میں آگیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مخاطب کر کے فرمایا کہ جب تم پیدا ہوئے تو کچھ نہ جانتے تھے، اللہ تعالیٰ نے تمھیں علم حاصل کرنے کے ذرائع عطا فرمائے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَيْـًٔا وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْـِٕدَةَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ }» [النحل: ۷۸] ”اور اللہ نے تمھیں تمھاری ماؤں کے پیٹوں سے اس حال میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور اس نے تمھارے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنا دیے، تاکہ تم شکر کرو۔“ علم حاصل کرنے کے ذرائع میں سب سے پہلے سننے کی نعمت کا ذکر فرمایا، کیونکہ پیدا ہونے کے بعد سب سے پہلے کان ہی اپنا کام شروع کرتے ہیں، اس کے بعد آنکھیں اپنا کام شروع کرتی ہیں، اور اس لیے بھی کانوں کا ذکر پہلے فرمایا کہ کانوں پر کوئی پردہ نہیں، وہ ہر وقت اپنا کام سرانجام دیتے ہیں، حتیٰ کہ سونے کی حالت میں بھی سخت آواز جگانے کا باعث ہوتی ہے، جب کہ آنکھیں بند کر لینے سے یا سوجانے سے دیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔ سوچنے سمجھنے کا عمل ان دونوں کے بعد شروع ہوتا ہے، اس لیے {” الْاَفْـِٕدَةَ “} کا ذکر دونوں کے بعد فرمایا۔
➍ {قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ:} یہ سب باتیں ایسی واضح ہیں کہ تم میں سے ہر ایک کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
9-1یعنی اس بچے کی ماں کے پیٹ میں نشو و نما کرتے، اس کے اعضا بناتے، سنوارتے ہیں اور پھر اس میں روح پھونکتے ہیں۔ 9-2یعنی ساری چیزیں پیدا کیں تاکہ وہ اپنی تخلیق کی تکمیل کر دے، پس تم سننے والی بات کو سن سکو دیکھنے والی چیز کو دیکھ سکو اور ہر عقل و فہم میں آنے والی بات کو سمجھ سکو۔ 9-3یعنی اتنے احسانات کے باوجود انسان اتنا ناشکرا ہے کہ وہ اللہ کا شکر بہت ہی کم ادا کرتا ہے یا شکر کرنے والے آدمی بہت تھوڑے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
9۔ پھر اسے (رحم مادر) میں درست [10] کیا اور اس میں اپنی (پیدا کی ہوئی) روح پھونکی اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے (مگر) تم کم ہی شکر کرتے ہو۔
[10] تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی انفرادی توجہ :۔
پھر اسی انتہائی چھوٹے سے جرثومہ کو رحم مادر میں پیوست کیا تو اس کے بالکل ویسے ہی اعضاء بننے لگے اور ان پر گوشت پوست چڑھنے لگا جس چیز کا وہ جرثومہ تھا اللہ تعالیٰ نے پھر اپنی انفرادی توجہ سے اس میں چند نمایاں اختلاف بھی رکھ دیئے۔ لیکن اعضاء کے توازن و تناسب میں کچھ فرق نہ آنے دیا۔ پھر یہ سب کچھ درست کرنے اور آنکھ، ناک، کان، دل وغیرہ سب اعضاء کو درست اور ٹھیک ٹھاک کر دینے کے بعد اس میں اپنے ہاں سے روح پھونک دی اور مقررہ وقت کے بعد وہ ایک تندرست اور جیتا جاگتا انسان بن کر رحم مادر سے باہر نکل آیا۔ یہ سب باتیں ایسے بدیہی امور ہیں جو سب انسانوں کے مشاہدہ میں آتی رہتی ہیں۔ پھر بھی انسانوں کی اکثریت ایسی ہے جو نہ ان قدرتوں کا اعتراف کرتی ہے اور نہ ان نعمتوں پر اللہ کا شکر بجا لاتی ہے۔ [نيز ديكهئے سورة حجر كا حاشيه 19]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔