تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 6

ذٰلِکَ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ﴿۶﴾
وہی غائب اور حاضر کو جاننے والا، سب پرغالب، نہایت رحم والا ہے۔ En
یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب اور رحم والا (خدا) ہے
En
یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، زبردست غالب بہت ہی مہربان En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ذٰلِكَ وہ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ الْ٘عَزِیْزُ الرَّحِیْمُ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلك}: الذي خلق تلك المخلوقات العظيمة، الذي استوى على العرش العظيم، وانفرد بالتدابير في المملكة، {عالمُ الغيب والشهادة العزيزُ الرحيم}: فبسعة علمِهِ وكمال عزَّتِهِ وعموم رحمتِهِ أوجَدَها، وأوْدَعَ فيها من المنافع ما أوْدَعَ، ولم يعسُرْ عليه تدبيرُها.