تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 7

الَّذِیۡۤ اَحۡسَنَ کُلَّ شَیۡءٍ خَلَقَہٗ وَ بَدَاَ خَلۡقَ الۡاِنۡسَانِ مِنۡ طِیۡنٍ ۚ﴿۷﴾
جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔ En
جس نے ہر چیز کو بہت اچھی طرح بنایا (یعنی) اس کو پیدا کیا۔ اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا
En
جس نے نہایت خوب بنائی جو چیز بھی بنائی اور انسان کی بناوٹ مٹی سے شروع کی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿الَّذِیْۤ اَحْسَنَ كُ٘لَّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ تمام مخلوق کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے پیدا کیا، اسے بہترین تخلیق عطا کی۔ اس نے ہر مخلوق کو ایسی تخلیق عطا کی جو اس کے لائق اور اس کے ماحول کے موافق ہے اور یہ عام ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کے فضل و شرف کی بنا پر اس کی تخلیق کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿وَبَدَاَ خَلْ٘قَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ اور انسان کی پیدائش کو مٹی سے شروع کیا۔ یہ ابتدا ابوالبشرحضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ہوئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{الذي أحسنَ كلَّ شيءٍ خَلَقَه}؛ أي: كلّ مخلوقٍ خلقَهُ الله؛ فإنَّ الله أحسن خلقَه، وخَلَقَهُ خلقاً يليقُ به ويوافِقُه؛ فهذا عامٌّ، ثم خصَّ الآدميَّ لشرفِهِ وفضلِهِ، فقال: {وبدأ خَلْقَ الإنسانِ من طينٍ}: وذلك بخلق آدم عليه السلام أبي البشر.