وہ آسمان سے زمین تک (ہر) معاملے کی تدبیر کرتا ہے، پھر وہ (معاملہ) اس کی طرف ایسے دن میں اوپر جاتا ہے جس کی مقدار ہزار سال ہے، اس (حساب) سے جو تم شمار کرتے ہو۔
En
وہی آسمان سے زمین تک (کے) ہر کام کا انتظام کرتا ہے۔ پھر وہ ایک روز جس کی مقدار تمہارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگی۔ اس کی طرف صعود (اور رجوع) کرے گا
وه آسمان سے لے کر زمین تک (ہر) کام کی تدبیر کرتا ہے۔ پھر (وه کام) ایک ایسے دن میں اس کی طرف چڑھ جاتا ہے جس کا اندازه تمہاری گنتی کے ایک ہزار سال کے برابر ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یُدَبِّرُالْاَمْرَ ﴾ امر کونی و قدری اور امر دینی و شرعی کی تمام تدابیر وہ اکیلا ہی کرتا ہے اور تمام تدابیر قادر مطلق بادشاہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں ﴿مِنَالسَّمَآءِاِلَىالْاَرْضِ ﴾”آسمان سے زمین کی طرف“ پس وہ ان تدابیر کے ذریعے سے کسی کو سعادت مند بناتا ہے اور کسی کو بدبختی کے گڑھے میں دھکیل دیتا ہے، کسی کو دولت مند بنا دیتا ہے اور کسی کے نصیب میں فقروفاقہ لکھ دیتا ہے، کسی کو عزت سے نوازتا ہے اور کسی کو ذلت دیتا ہے، کسی کو اکرام و تکریم سے بہرہ مند کرتا ہے اور کسی کے دامن میں رسوائی ڈال دیتا ہے، کچھ قوموں کو رفعت اور عروج سے سرفراز کرتا ہے اور کچھ قوموں کو زوال کی پستیوں میں گرا دیتا ہے اور وہی آسمانوں سے رزق نازل کرتا ہے۔
﴿ثُمَّیَعْرُجُاِلَیْهِ ﴾” پھر وہ اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔“ یعنی امر اس کی طرف سے نازل ہوتا ہے اور اس کی طرف چڑھ جاتا ہے ﴿فِیْیَوْمٍكَانَمِقْدَارُهٗۤاَلْفَسَنَةٍمِّمَّاتَعُدُّوْنَ ﴾”ایک روز میں جس کا اندازہ تمھارے شمار کے مطابق ہزار برس ہوگا۔“ یعنی یہ امرعروج کر کے، ایک لمحہ میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يدبِّرُ الأمرَ}: القدريَّ والأمر الشرعيَّ، الجميع هو المنفرد بتدبيره، نازلةٌ تلك التدابير من عند الملك القدير، {من السماء إلى الأرض}: فيُسْعِدُ بها ويشقي، ويُغني ويُفقر، ويعزُّ ويذلُّ ويكرِم ويُهين، ويرفع أقواماً ويضع آخرينَ، وينزِّل الأرزاق، {ثم يَعْرُجُ إليه}؛ أي: الأمر ينزِلُ من عنده، ويعرُجُ إليه {في يوم كان مقدارُهُ ألفَ سنةٍ ممَّا تعدُّونَ}: وهو يعرُجُ إليه، ويصِلُه في لحظة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔