ترجمہ و تفسیر — سورۃ السجدة (32) — آیت 6

ذٰلِکَ عٰلِمُ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ الۡعَزِیۡزُ الرَّحِیۡمُ ۙ﴿۶﴾
وہی غائب اور حاضر کو جاننے والا، سب پرغالب، نہایت رحم والا ہے۔ En
یہی تو پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا (اور) غالب اور رحم والا (خدا) ہے
En
یہی ہے چھپے کھلے کا جاننے واﻻ، زبردست غالب بہت ہی مہربان En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 6) {ذٰلِكَ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ …:} یعنی وہ پروردگار جو خلق و تدبیر کا یہ سارا سلسلہ چلا رہا ہے، اس کا علم اتنا وسیع ہے کہ جو کچھ تم سے غائب ہے یا حاضر، ماضی ہے یا حال یا مستقبل، سب کچھ اس کے علم میں ہے، قدرت اس کی اتنی بے پایاں ہے کہ وہ ہر ایک پر غالب ہے اور رحمت اتنی کہ ہر چیز کو اپنے دامن میں سمائے ہوئے ہے۔ اس کے سوا نہ کسی کے پاس یہ علم ہے، نہ قدرت اور نہ رحمت، خواہ وہ انسان ہو یا جن یا فرشتہ یا کوئی اور مخلوق، تو پھر کسی اور کی عبادت کیوں کی جائے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

6۔ یہ (ہے اللہ جو) ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کا جاننے والا ہے وہ سب پر غالب [7] اور رحم کرنے والا ہے۔
[7] یعنی وہ ہستی جو اتنے بڑے بڑے کارنامے سرانجام دے سکے ضروری ہے کہ اس کا علم لامحدود ہو۔ ہر چیز کی ماہیت اور کیفیت اس کے علم میں ہو اور کوئی بھی چیز اس سے چھپی ہوئی نہ ہو نہ چھپ سکتی ہو۔ پھر یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں اتنی قدرت ہو کہ وہ ہر چیز کو اپنی مرضی کے مطابق کام میں لا سکتا ہو۔ نیز اتنی زبردست اور قاہرانہ قدرت رکھنے کے باوجود وہ اپنی مخلوق پر رحیم اور شفیق بھی ہو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
اس کا حکم ساتوں آسمانوں کے اوپر سے اترتا ہے اور ساتوں زمینوں کے نیچے تک پہنچتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ وَّمِنَ الْاَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَـتَنَزَّلُ الْاَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ڏ وَّاَنَّ اللّٰهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا» ۱؎ [65-الطلاق:12]‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ نے سات آسمان بنائے اور انہی کے مثل زمینیں اس کا حکم ان سب کے درمیان اترتا ہے ‘۔
اعمال اپنے دیوان کی طرف اٹھائے اور چڑھائے جاتے ہیں جو آسمان دنیا کے اوپر ہے۔ زمین سے آسمان اول پانچ سو سال کے فاصلہ پر ہے اور اتنا ہی اس کا گھیراؤ ہے۔ اتنا اترنا چڑھنا اللہ کی قدرت سے فرشتہ ایک آنکھ جھپکنے میں کر لیتا ہے۔
اسی لیے فرمایا ’ ایک دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے ‘۔ ان امور کا مدبر اللہ ہے وہ اپنے بندوں کے اعمال سے باخبر ہے۔ سب چھوٹے بڑے عمل اس کی طرف چڑھتے ہیں۔ وہ غالب ہے جس نے ہرچیز کو اپنے ماتحت کر رکھا ہے کل بندے اور کل گردنیں اس کے سامنے جھکی ہوئی ہیں وہ اپنے مومن بندوں پر بہت ہی مہربان ہے عزیز ہے اپنی رحمت میں اور رحیم ہے اپنی عزت میں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ذٰلِكَ وہ یعنی جس نے بڑی بڑی مخلوقات کو پیدا کیا، جو عرش عظیم پر مستوی ہے اور اکیلا ہی اپنی مملکت کی تدبیر کرتا ہے ﴿عٰؔلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ الْ٘عَزِیْزُ الرَّحِیْمُ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا، غالب، رحم کرنے والا ہے۔ پس اس نے اپنی وسعت علم، اپنے کامل غلبے اور اپنی بے پایاں رحمت کی بنا پر ان مخلوقات کو وجود بخشا اور ان میں بے شمار فائدے ودیعت کیے اور ان کی تدبیر کرنا اس کے لیے مشکل نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ذلك}: الذي خلق تلك المخلوقات العظيمة، الذي استوى على العرش العظيم، وانفرد بالتدابير في المملكة، {عالمُ الغيب والشهادة العزيزُ الرحيم}: فبسعة علمِهِ وكمال عزَّتِهِ وعموم رحمتِهِ أوجَدَها، وأوْدَعَ فيها من المنافع ما أوْدَعَ، ولم يعسُرْ عليه تدبيرُها.