تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 28

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡفَتۡحُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۲۸﴾
اور وہ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا، اگر تم سچے ہو؟ En
اور کہتے ہیں اگر تم سچے ہو تو یہ فیصلہ کب ہوگا؟
En
اور کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ کب ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتلاؤ) En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی مجرم جہالت اور عناد کی بنا پر عذاب میں جلدی مچاتے ہیں جس کا ان کے ساتھ ان کے جھٹلانے کی پاداش میں وعدہ کیا گیا ہے۔ ﴿وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰؔذَا الْ٘فَ٘تْحُ اور کہتے ہیں: یہ فیصلہ کب ہوگا؟ جو ہمارے اور تمھارے درمیان فیصلہ کر دے اور تمھارے زعم کے مطابق ہمیں عذاب میں مبتلا کر دے ﴿اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ اے رسول! اگر تم اپنے دعوی میں سچے ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يستعجلُ المجرمون بالعذاب الذي وُعِدوا به على التكذيب جهلاً منهم ومعاندةً، {ويقولونَ متى هذا الفتحُ}: الذي يفتحُ بيننا وبينكم بتعذيبنا على زعمكم {إن كنتُم} [أيها الرسلُ] {صادقينَ}: في دعواكم.