تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 29

قُلۡ یَوۡمَ الۡفَتۡحِ لَا یَنۡفَعُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِیۡمَانُہُمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۲۹﴾
کہہ دے فیصلے کے دن ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا نہ ان کا ایمان لانا نفع دے گا اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔ En
کہہ دو کہ فیصلے کے دن کافروں کو ان کا ایمان لانا کچھ بھی فائدہ نہ دے گا اور نہ اُن کو مہلت دی جائے گی
En
جواب دے دو کہ فیصلے والے دن ایمان ﻻنا بے ایمانوں کو کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ یَوْمَ الْ٘فَ٘تْحِ کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن یعنی جس روز تمھیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمھیں ایمان حاصل ہو جائے تو تمھیں مہلت کا ملناممکن ہے تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کر لو کیونکہ یقینی طورپر معاملہ ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا، اس وقت ﴿لَا یَنْفَ٘عُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ کافروں کو ان کاایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہو گی۔ ﴿وَلَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کر دیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قُلْ يومَ الفتح}: الذي يحصُلُ به عقابُكم لا تستفيدون به شيئاً؛ فلو كان إذا حَصَلَ؛ حَصَلَ إمهالُكم لتستدركوا ما فاتكم حين صار الأمر عندكم يقيناً؛ لكان لذلك وجه، ولكن إذا جاء يومُ الفتح؛ انقضى الأمرُ، ولم يبق للمحنةِ والابتلاء محلٌّ، فلا {ينفعُ الذين كفروا إيمانُهم}: لأنَّه صار إيمانَ ضرورةٍ، {ولا هم يُنظَرون}؛ أي: يُمْهَلون، فيؤخَّرُ عنهم العذاب، فيستدركون أمرهم.