تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿قُ٘لْیَوْمَالْ٘فَ٘تْحِ ﴾”کہہ دیجیے کہ فیصلے کے دن“ یعنی جس روز تمھیں عذاب دیا جائے گا تم اس روز سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکو گے۔ اگر تمھیں ایمان حاصل ہو جائے تو تمھیں مہلت کا ملناممکن ہے تاکہ جو چیز تمھارے ہاتھ سے نکل چکی ہے تم اس کی تلافی کر لو کیونکہ یقینی طورپر معاملہ ابھی تک تمھارے ہاتھ میں ہے۔ مگر جب فیصلے کا دن آئے گا تو تمام معاملہ ختم ہو جائے گا اور امتحان و ابتلا کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا، اس وقت ﴿لَایَنْفَ٘عُالَّذِیْنَكَفَرُوْۤااِیْمَانُهُمْ ﴾”کافروں کو ان کاایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا۔“ کیونکہ اس ایمان کی حیثیت اضطراری ایمان کی سی ہو گی۔ ﴿وَلَاهُمْیُنْظَرُوْنَ ﴾ اور نہ ان کو کوئی مہلت دی جائے گی کہ عذاب کو مؤخر کر دیا جائے اور یہ اپنے معاملے کو سدھار لیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قُلْ يومَ الفتح}: الذي يحصُلُ به عقابُكم لا تستفيدون به شيئاً؛ فلو كان إذا حَصَلَ؛ حَصَلَ إمهالُكم لتستدركوا ما فاتكم حين صار الأمر عندكم يقيناً؛ لكان لذلك وجه، ولكن إذا جاء يومُ الفتح؛ انقضى الأمرُ، ولم يبق للمحنةِ والابتلاء محلٌّ، فلا {ينفعُ الذين كفروا إيمانُهم}: لأنَّه صار إيمانَ ضرورةٍ، {ولا هم يُنظَرون}؛ أي: يُمْهَلون، فيؤخَّرُ عنهم العذاب، فيستدركون أمرهم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔