تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ السجدة (32) — آیت 27

اَوَ لَمۡ یَرَوۡا اَنَّا نَسُوۡقُ الۡمَآءَ اِلَی الۡاَرۡضِ الۡجُرُزِ فَنُخۡرِجُ بِہٖ زَرۡعًا تَاۡکُلُ مِنۡہُ اَنۡعَامُہُمۡ وَ اَنۡفُسُہُمۡ ؕ اَفَلَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؓ۲۷﴾
اور کیا انھوں نے نہیںدیکھا کہ ہم پانی کو چٹیل زمین کی طرف ہانک لے جاتے ہیں، پھر اس کے ذریعے کھیتی نکالتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا یہ نہیں دیکھتے؟ En
کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں پھر اس سے کھیتی پیدا کرتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی (کھاتے ہیں) تو یہ دیکھتے کیوں نہیں۔
En
کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم پانی کو بنجر (غیر آباد) زمین کی طرف بہا کر لے جاتے ہیں پھر اس سے ہم کھیتیاں نکالتے ہیں جسے ان کے چوپائے اور یہ خود کھاتے ہیں، کیا پھر بھی یہ نہیں دیکھتے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿اَوَلَمْ یَرَوْا کیا انھوں نے اپنی کھلی آنکھوں کے ساتھ ہماری نعمت اور ہماری حکمت کاملہ کا مشاہدہ نہیں کیا؟ ﴿اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ ہم بنجر زمین کی طرف پانی رواں کرتے ہیں۔ یعنی اس زمین کی طرف جو بے آب و گیاہ ہے اللہ تعالیٰ بارش کو لاتا ہے جو اس سے قبل موجود نہ تھی وہ اس زمین پر بادل برساتا ہے یا دریاؤ ں سے سیراب کرتا ہے۔ ﴿فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا پس ہم اس پانی کے ذریعے سے مختلف انواع کی نباتات اگاتے ہیں ﴿تَاْكُ٘لُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ جس میں سے ان کے چوپائے کھاتے ہیں۔ اس سے مراد مویشیوں کا چارہ ہے ﴿وَاَنْفُسُهُمْ اور وہ خود بھی اس سے مراد آدمیوں کا کھانا ہے۔
﴿اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ کیا وہ اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو دیکھتے نہیں جس کے ذریعے سے اس نے زمین اور بندوں کو زندگی بخشی؟ اگر وہ دیکھتے تو انھیں صاف نظر آتا اور اس بصارت اور بصیرت کے ذریعے سے صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل کرتے، مگر ان پر اندھا پن غالب اور غفلت چھائی ہوئی ہے، لہٰذا انھوں نے اس بارے میں مردوں کی طرح نہیں دیکھا۔ بس انھوں نے اس کو غفلت کی نظر سے اور محض عادت کے طور پر دیکھا، اس لیے انھیں بھلائی کی توفیق نہیں ملی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولم يَرَوْا}: بأبصارهم نعمتنا وكمال حكمتنا، {أنَّا نسوقُ الماء إلى الأرض الجرز}: التي لا نبات فيها، فيسوق الله المطر الذي لم يكنْ قبلُ موجوداً فيها، فيفرِغُه فيها من السحاب أو من الأنهار؛ {فنخرِجُ به زرعاً}؛ أي: نباتاً مختلف الأنواع، {تأكُلُ منه أنعامُهم}: وهو نباتُ البهائم {وأنفسُهُم}: وهو طعام الآدميين. {أفلا يبصِرونَ}: تلك المنَّة التي أحيا الله بها البلاد والعباد، فيستبصِرون فيهتدون بذلك البصر وتلك البصيرة إلى الصراط المستقيم؟ ولكن غلب عليهم العمى، واستولتْ عليهم الغفلة، فلم يبصِروا في ذلك بصر الرجال، وإنَّما نظروا إلى ذلك نظر الغفلة ومجرَّد العادة، فلم يوفَّقوا للخير.